قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا اسی کی طرف اللہ جلّ شانہ نے اشارہ فرمایا ہے: ۔
3۔۱ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا یعنی تو مصلوب نہیں ہوگا۔ اس آیت میں یہود کے اس قول کا رد ہے کہ وہ کہتے تھے کہ عیسیٰ مصلوب ہوگیا اس لئے معلون ہے۔ اور خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا۔ اور عیسائی کہتے تھے کہ تین دن *** رہ کر پھر رفع ہوا۔ اور اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ بعد وفات بلاتوقف خداتعالیٰ کی طرف عیسیٰ کا رفع روحانی ہوا اور خداتعالیٰ نے اس جگہ رافعک الی السّمآء نہیں کہا بلکہ 3 فرمایا تا رفع جسمانی کا شبہ نہ گذرے۔ کیونکہ جو خداتعالیٰ کی طرف جاتا ہے وہ روح سے جاتا ہے نہ جسم سے 3۔۲ اس کی نظیر ہے۔ غرض اس طرح پر یہ جھگڑا فیصلہ پایا۔ مگر ہمارے نادان مخالف جو رفع جسمانی کے قائل ہیں وہ اتنا بھی نہیںؔ سمجھتے کہ جسمانی رفع امر متنازع فیہ نہ تھا۔ اور اگر اس بے تعلق امر کو بفرض محال قبول کرلیں تو پھر یہ سوال ہوگا کہ جو روحانی رفع کے متعلق یہود اور نصاریٰ میں جھگڑا تھا۔ اس کا فیصلہ قرآن کی کن آیات میں بیان فرمایا گیا ہے۔ آخر لوٹ کر اسی طرف آنا پڑے گا کہ وہ آیات یہی ہیں۔
یہ تو نقلی طور پر ہمارا الزام مخالفین پر ہے۔ اور ایسا ہی عقلی طور پر بھی وہ ملزم ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ جب سے دنیا کی بنا ڈالی گئی ہے یہ عادت اللہ نہیں کہ کوئی شخص زندہ اسی جسم عنصری کے ساتھ کئی سو سال آسمان پر بود و باش اختیار کرے اور پھر کسی دوسرے وقت زمین پر اُتر آوے۔ اگر یہ عادت اللہ ہوتی تو دنیا میں کئی نظیریں اس کی پائی جاتیں۔ یہودیوں کو یہ گمان تھا کہ ایلیا آسمان پر گیا اور پھر آئے گا۔ مگر خود حضرت مسیح نے اس گمان کو باطل ٹھہرایا اور ایلیا کے نزول سے مراد یوحنا کو لے لیا جو اسلام میں یحییٰ کے نام سے موسوم ہے حالانکہ ظاہر نص یہی کہتا تھا کہ ایلیا واپس آئے گا۔ ہر ایک فوق العادۃ عقیدہ کی نظیر طلب کرنا محققوں کا کام ہے تا کسی گمراہی میں نہ پھنس جائیں۔ کیونکہ جو بات خدا کی طرف سے