پھر یہ بے وقوفی ہوئی کہ حضرت شیخ صاحب عدالت کے سامنے یہ تمام سُبکی اٹھا کر پھر باہر آکر کرسی پر بیٹھ گئے۔ اور جب ایک طرف سے اٹھایا گیا تو دوسری طرف جاکر کرسی پر بیٹھ گئے پھر جب وہاں سے بھی بڑی ذلت کے ساتھ اٹھائے گئے تو آپ ایک شخص کی چادر لے کر زمین پر بچھا کر بیٹھے مگر اس شخص نے آپ کو مورد قہر الٰہی سمجھ کر نیچے سے چادر کھینچ لی اور کہا کیا تو ایک مذہبی مقدمہ میں جو بناوٹی ہے پادریوں کی گواہی دیتا ہے اور میری چادر پر بیٹھتا ہے۔ میں اپنیؔ چادر پلید کرانی نہیں چاہتا۔ پھر بعد اس کے جو صاحب ضلع نے جھڑکی دے کر اور کرسی سے محروم کر کے محمد حسین کو سیدھا کھڑا کیا اور عدالت کے چپراسیوں نے بھی بار بار اس کو کرسی سے اٹھایا ایک اور ذلت محمدحسین کی یہ ہوئی کہ لوگ اس کی اس حرکت سے ناراض ہوئے کہ پادریوں کے ایک جھوٹے مقدمہ میں وہ گواہ بن کر آیا اور بہت زور لگایا کہ اس جھوٹ کو سچ کرے ہزاروں نیک طینت انسان اس کے ان حالات پر نفرین کرتے تھے کہ اس نے مولوی کہلا کر ایک جھوٹے مقدمہ میں عیسائیوں کی گواہی دی اور بار بار کہتے تھے کہ اس گواہی کا باعث صرف نفسانی کینہ اور بغض ہے۔ ایک پیر مرد نے اس روز اس کے حالات دیکھ کر آہ کھینچ کر کہا کہ مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ مولوی لوگ مشکل سے ایمان سلامت لے جائیں گے۔ پس افسوس اس شخص کی زندگی پر کہ اس نے ایسی ناپاک حرکتوں سے تمام مولویوں کو بدنام کیا۔ اب اس شخص کا میری نسبت بغض انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ اس شخص سے خدا کا مقابلہ نہیں ہو سکتا ورنہ یہ شخص میری جان اور آبرو کا سخت دشمن ہے۔ اور اب بغض کے جوش میں وہ باتیں اس کے منہ سے نکلتی ہیں جو ایک صالح اور متقی کے منہ سے ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ اس کو یہ خیال نہیں کہ دشمنوں کا ہر ایک منصوبہ اہل حق کی صفائی کا زیادہ موجب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک جتنے منصوبے میری نسبت کئے گئے ان سے میرا کچھ نقصان نہیں بلکہ میری بریت ثابت ہوئی۔ اول لیکھرام کے مقدمہ میں میری تلاشی کرائی گئی تو