مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسوم عبادت آزادی سے بجا لا سکتے۔ پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی اور خداتعالیٰ نے ایک ابر رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لئے بھیج دیا۔ پھر کس قدر بدذاتی ہوگی کہ ہم اس نعمت کا شکر بجاؔ نہ لاویں۔ اس نعمت کی عظمت تو ہمارے دل اور جان اور رگ و ریشہ میں منقوش ہے اور ہمارے بزرگ ہمیشہ اس راہ میں اپنی جان دینے کے لئے طیّار رہے۔ پھر نعوذ باللہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں میں مفسدانہ ارادے رکھیں۔ ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا ذکر کر سکیں جو اس گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزائے خیر دے اور اس سے نیکی کرے جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی روح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جمادیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں اٹھارہ ۱۸برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں۔ مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی بے خبر ہیں۔ جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا۔ یہ تو ہمارا عقیدہ ہے مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پُرزور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا۔ اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دئیے ہیں۔