ہیں اور اس ارادہ اور قصد کی اول وجہ یہی ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی کہ تا میں ان وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے۔ جن کی وجہ سے وہ نہایت بیوقوفی سے اپنیؔ گورنمنٹ محسنہ کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے بلکہ بعض جاہل ملّاؤں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے۔ سو میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریاکاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خداتعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت ان کی محسن ہے سچی اطاعت اختیار کرنی چاہئیے اور وفاداری کے ساتھ اس کی شکرگذاری کرنی چاہئیے۔ ورنہ خداتعالیٰ کے گنہگار ہوگے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے۔ اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔ اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر باایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکّام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی۔ اس لئے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایّام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا۔ ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی