گیا۔ وہ جھوٹوں میں شمار کیا گیا۔ وہ ناپاکوں میں لکھا گیا تو کیا خدا کی غیرت ایسے وقت میں جوش نہ مارتی اب سمجھ کہ آسمان جھکتا چلا آتا ہے اور وہ دن نزدیک ہیں کہ ہر ایک کان کو ’’اَنَا الْمَوجُود‘‘ کی آواز آئے۔
ہم نے کفّار سے بہت کچھ دیکھا۔ اب خدا بھی کچھ دکھلانا چاہتا ہے۔ سو اب تم دیدہ و دانستہ اپنے تئیں مورد غضب مت بناؤ۔ کیا صدی کا سر تم نے نہیں دیکھا؟ جس پر چودہ برس اور بھی گذر گئے۔ کیا خسوف کسوف رمضان میں تمہاری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوا؟ کیا ستارہ ذوالسنین کے طلوع کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی؟ کیا تمہیں اس ہولناک زلزلہ کی کچھ خبر نہیں جو مسیح کی پیشگوئی کے مطابق ان ہی دنوں میں وقوع میں آیا اور بہت سی بستیوں کو برباد کر گیا۔ اور خبر دی گئی تھی کہ اُسی کے متّصل مسیح بھی آئے گا؟ کیا تم نے آتھم کی نسبت وہ نشان نہیں دیکھا جو ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ظہور میں آیا جس کی خبر سترہ ۱۷برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں دی گئی تھی؟ کیا لیکھرام کی نسبت پیشگوئی اب تک تم نے نہیں سنی؟ کیا کبھی اس سے پہلے کسی نے دیکھا تھا کہ پہلوانوں کی کُشتی کی طرح مقابلہ ہو کر اور لاکھوں انسانوں میں شہرت پاکر اور صدہا اشتہارات اور رسائل میں چَھپ کر ایسا کھلا کھلا نشانؔ ظاہر ہوا ہو جیسا کہ لیکھرام کی نسبت ظاہر ہوا؟ کیا تمہیں اس خدا سے کچھ بھی شرم نہیں آتی جس نے تمہاری تیرھویں صدی کے غم اور صدمے دیکھ کر چودھویں صدی کے آتے ہی تمہاری تائید کی؟ کیا ضرور نہ تھا کہ خدا کے وعدے عین وقت میں پورے ہوتے؟ بتلاؤ کہ ان سب نشانوں کو دیکھ کر پھر تمہیں کیا ہوگیا؟ کس چیز نے تمہارے دلوں پر مہر لگا دی؟ اے کج دل قوم، خدا تیری ہر ایک تسلی کر سکتا ہے اگر تیرے دل میں صفائی ہو۔ خدا تجھے کھینچ سکتا ہے اگر تو کھینچے جانے کے لئے طیّار ہو۔ دیکھو یہ کیسا وقت ہے۔ کیسی ضرورتیں ہیں۔ جو اسلام کو پیش آگئیں۔ کیا تمہارا دل گواہی نہیں دیتا کہ یہ وقت خدا کے رحم کا وقت