ہے؟ آسمان پر بنی آدم کی ہدایت کے لئے ایک جوش ہے۔ اور توحید کا مقدمہ حضرت احدیّت کی پیشی میں ہے۔ مگر اس زمانہ کے اندھے اب تک بے خبر ہیں۔ آسمانی سلسلہ کی ان کی نظر میں کچھ بھی عزت نہیں۔ کاش ان کی آنکھیں کھلیں اور دیکھیں کہ کس کس قسم کے نشان اتر رہے ہیں اور آسمانی تائید ہو رہی ہے اور نور پھیلتا جاتا ہے۔ مبارک وہ جو اس کو پاتے ہیں۔ افسوس کہ پرچہ چودھویں صدی ۱۵ ؍جون ۱۸۹۷ ؁ء میں بھی بہت سی جزع فزع کے ساتھ سطان روم کا بہانہ رکھ کر نہایت ظالمانہ توہین و تحقیر و استہزاء اس عاجز کی نسبت کیا گیا ہے۔ اور گندے اور ناپاک اور سخت دھوکہ دینے والے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اور سراسر شرارت آمیز افترا سے کام لیا گیا ہے۔ مگر کچھ ضرور نہیں کہ میں اس کے رد میں تضییع اوقات کروں۔ کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے جس کے ہاتھ میں حساب ہے لیکن ایک عجیب بات ہے جس کا اس وقت ذکر کرنا نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ جب یہ اخبار چودھویں صدی میرے روبرو پڑھا گیا تو میری روح نے اس مقام میں بددعاکے لئے حرکت کی جہاں لکھا ہے کہ ’’ایک بزرگ نے جب یہ اشتہار (یعنی اس عاجز کا اشتہار) پڑھا۔ تو بیساختہ ان کے منہؔ سے یہ شعر نکل گیا ’’چوں خدا خواہد کہ پردۂ کَس دَرَد میلش اندر طعنۂ پاکاں برد‘‘ میں نے ہر چند اس روحی حرکت کو روکا اور دبایا اور بار بار کوشش کی کہ یہ بات میری روح میں سے نکل جائے مگر وہ نکل نہ سکی۔ تب میں نے سمجھا کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ تب میں نے اس شخص کے بارے میں دعا کی جس کو بزرگ کے لفظ سے اخبار میں لکھا گیا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ دعا قبول ہو گئی اور وہ دعایہ ہے کہ یا الٰہی اگر تو جانتا ہے کہ میں کذّاب ہوں اور تیری طرف سے نہیں ہوں اور جیسا کہ میری نسبت کہا گیا ہے ملعون اور مردود ہوں اور کاذب ہوں اور تجھ سے میرا تعلق اور تیرا مجھ سے نہیں تو میں تیری جناب میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں کہ