تم سب کے ساتھ آسمان پر ہے۔ اگر میں وہی ہوں جس کا وعدہ نبیؐ کے پاک لبوں نے کیا تھا تو تم نے نہ میر ابلکہ خدا کا گناہ کیا ہے۔ اور اگر پہلے سے آثار صحیحہ میں یہ وارد نہ ہوتا کہ اس کو دکھ دیا جائے گا اور اس پر لعنتیں بھیجی جائیں گی تو تم لوگوں کی مجال نہ تھی جو تم مجھے وہ دکھ دیتے جو تم نے دیا۔ پر ضرور تھا کہ وہ سب نوشتے پورے ہوں جو خدا کی طرف سے لکھے گئے تھے اور اب تک تمہیں ملزم کرنے کے لئے تمہاری کتابوں میں موجود ہیں۔ جن کو تم زبان سے پڑھتے اور پھر تکفیر اور *** کر کے مہر لگا دیتے ہو کہ وہ بد علماء اور ان کے دوست جو مہدی کی تکفیر کریں گے اور مسیح سے مقابلہ سے پیش آئیں گے وہ تم ہی ہو۔
میں نے بار بار کہا کہ آؤ اپنے شکوک مٹالو۔ پر کوئی نہیں آیا۔ میں نے فیصلہ کے لئے ہر ایک کو بلایا۔ پر کسی نے اس طرف رخ نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ تم استخارہ کرو اور رو رو کر خداتعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم پر حقیقت کھولے پر تم نے کچھ نہ کیا۔ اور تکذیب سے بھی باز نہ آئے۔ خدا نے میری نسبت سچ کہا کہ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا‘‘۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص درحقیقت سچا ہو اور ضائع کیا جائے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خدا کی طرف سے ہو۔ اور برباد ہو جائے؟ پس اے لوگو تم خدا سے مت لڑو۔ یہؔ وہ کام ہے جو خدا تمہارے لئے اور تمہارے ایمان کے لئے کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مزاحم مت ہو۔ اگر تم بجلی کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہو مگر خدا کے سامنے تمہیں ہرگز طاقت نہیں۔ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو تمہارے حملوں کی کچھ بھی حاجت نہ تھی خدا اس کے نیست و نابود کرنے کے لئے خود کافی تھا۔ افسوس کہ آسمان گواہی دے رہا ہے اور تم نہیں سنتے۔ اور زمین ’’ضرورت ضرورت‘‘ بیان کر رہی ہے اور تم نہیں دیکھتے! اے بدبخت قوم اٹھ اور دیکھ کہ اس مصیبت کے وقت میں جو اسلام پیروں کے نیچے کُچلا گیا اور مجرموں کی طرح بے عزت کیا