پھر یہ بھی سوچو کہ جس حالت میں مَیں وہ شخص ہوں جو اس مسیح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتا ہوں جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ ’’وہ تمہارا امام اور خلیفہ ہے اور اس پر خدا اور اس کے نبی کا سلام ہے اور اس کا دشمن *** اور اس کا دوست خدا کا دوست ہے۔ اور وہ تمام دنیا کے لئے حَکَمہو کر آئے گا۔ اور اپنے تمام قول اور فعل میں عادل ہوگا،،۔ تو کیا یہ تقویٰ کا طریق تھا کہ میرے دعویٰ کو سن کر اور میرے نشانوں کو دیکھ کر اور میرے ثبوتوں کا مشاہدہ کر کے مجھے یہ صلہ دیتے کہ گندی گالیاں اور ٹھٹھے اور ہنسی سے پیش آتے؟ کیا نشان ظاہر نہیں ہوئے؟ کیا آسمانی تائیدیں ظہور میں نہیں آئیں؟ کیا ان سب وقتوں اور موسموں کا پتہ نہیں لگ گیا جو احادیث اور آثار میں بیان کی گئی تھیں؟ تو پھر اس قدر کیوں بیباکی دکھلائی گئی؟ ہاں اگر میرے دعوے میں اب بھی شک تھا یا میرے دلائل اور نشانوں میں کچھ شبہ تھا تو غربت اور نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس شبہ کو دور کرایا ہوتا۔ مگر انہوں نے بجائے تحقیق اور تفتیش کے اس قدر گالیاں اور لعنتیں بھیجیں کہ شیعوں کو بھی پیچھے ڈال دیا۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غدّاری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں۔ پھر ماسوا اس کے میرے مخالف اپنے دلوں میں آپ ہی سوچیں کہ اگر میں درحقیقت وہی مسیح موعود ہوں جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمؔ نے اپنا ایک بازو قرار دیا ہے اور جس کو سلام بھیجا ہے اور جس کا نام حَکَم اور عدل اور امام اور خلیفۃ اللّٰہ رکھا ہے تو کیا ایسے شخص پر ایک معمولی بادشاہ کے لئے لعنتیں بھیجنا اس کو گالیاں دینا جائز تھا؟ ذرہ اپنے جوش کو تھام کے سوچیں نہ میرے لئے بلکہ اللہ اور رسول کے لئے کہ کیا ایسے مدعی کے ساتھ ایسا کرنا روا تھا؟ میں زیادہ کہنا نہیں چاہتا۔ کیونکہ میرا مقدمہ