ہے جس کے عذاب کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں کی جاتی۔ مگر وہ نادان نہیں سمجھتے کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ کفّار کے فسق و فجور اور بُت پرستی اور انسان پرستی کی سزا دینے کے لئے خداتعالیٰ نے ایک دوسرا عالم رکھا ہوا ہے جو مرنے کے بعد پیش آئے گا۔ اور ایسی قوموں کو جو خدا پر ایمان نہیں رکھتیں اسی دنیا میں مورد عذاب کرنا خداتعالیٰ کی عادت نہیں ہے بجز اس صورت کے کہ وہ لوگ اپنے گناہ میں حد سے زیادہ تجاوز کریں اور خدا کی نظر میں سخت ظالم اور موذی اور مفسد ٹھہر جائیں۔ جیسا کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ مفسد قومیں متواتر بیباکیاں کر کے مستوجب سزا ہوگئی تھیں۔ لیکن خداتعالیٰ مسلمانوں کی بیباکی کی سزا کو دوسرے جہان پر نہیں چھوڑتا۔ بلکہ مسلمانوں کو ادنیٰ ادنیٰ قصور کے وقت اسی دنیا میں تنبیہ کی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ خداتعالیٰ کے آگے ان بچوں کی طرح ہیں جن کی والدہ ہر دم جھڑکیاں دیکر انہیں ادب سکھاتی ہے۔ اور خداتعالیٰ اپنی محبت سے چاہتا ہے کہ وہ اس ناپائیدار دنیا سے پاک ہو کر جائیں۔ یہی باتیں تھیں کہ میں نے نیک نیتی سے سفیر روم پر ظاہر کی تھیں۔ مگر افسوس کہ بیوقوف مسلمانوں نے ان باتوں کو اور طرف کھینچ لیا۔ ان نادانوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے ایک حاذق ڈاکٹر کہ جو تشخیص امراض اور قواعد حفظ ماتقدم کو بخوبی جانتا ہے وہ کسی شخص کی نسبت کمال نیک نیتی سے یہ رائے ظاہر کرے کہ اس کے پیٹ میں ایک قسم کی رسولی نے بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ اور اگر ابھی وہ رسولی کاٹی نہ جائے تو ایک عرصہ کے بعد اس شخص کی زندگی اس کے لئے وبال ہو جائے گی۔ تب اس بیمار کے وارث اُس بات کو سن کر اس ڈاکٹر پر سخت ناراض ہوں اور اس ڈاکٹر کے قتل کر دینے کے درؔ پے ہوجائیں۔ مگر رسولی کا کچھ بھی فکر نہ کریں۔ یہاں تک کہ وہ رسولی بڑھے اور پھولے اور تمام پیٹ میں پھیل جائے اور اُس بیچارے بیمار کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ سو یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو اپنی دانست میں سلطان کے خیر خواہ کہلاتے ہیں۔