ہر ایک مسلمان عقلمند بھلامانس نیک فطرت جو اپنی شرافت سے سچی بات کو قبول کرنے کے لئے طیّار ہوتا ہے۔ اس بات کو متوجہ ہو کر سنے کہ ہم کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کلمہ گو سے بھی کینہ نہیں رکھتے چہ جائیکہ ایسے شخص سے کینہ ہو جس کی ظل حمایت میں کروڑہا اہل قبلہ زندگی بسر کرتے ہیں اور جس کی حفاظت کے نیچے خداتعالیٰ نے اپنے مقدس مکانوں کو سپرد کر رکھا ہے۔ سلطان کی شخصی حالت اور اس کی ذاتیات کے متعلق نہ ہم نے کبھی کوئی بحث کی اور نہ اب ہے۔ بلکہ اللہ جلّ شانہٗ جانتا ہے کہ ہمیں اس موجود سلطان کے بارے میں اس کے باپ دادے کی نسبت زیادہ حسن ظن ہے۔ ہاں ہم نے گذشتہ اشتہارات میں ترکی گورنمنٹ پر بلحاظ اس کے بعض عظیم الدخل اور خراب اندرون ارکان اور عمائد اور وزراء کے نہ بلحاظ سلطان کی ذاتیات کے ضرور اس خدا داد نور اور فراست اور الہام کی تحریک سے جو ہمیں عطا ہوا ہے چند ایسی باتیں لکھی ہیں جو خود ان کے مفہوم کے خوفناک اثر سے ہمارے دل پر ایک عجیب رقت اور درد طاری ہوتی ہے۔ سو ہماری وہ تحریر جیسا کہ گندے خیال والے سمجھتے ہیں کسی نفسانی جوش پر مبنی نہ تھی۔ بلکہ اس روشنی کے چشمہ سے نکلی تھی جو رحمت الٰہی نے ہمیں بخشا ہے۔ اگر ہمارے تنگ ظرف مخالف بدظنی پر سرنگوں نہ ہوتے تو سلطان کی حقیقی خیر خواہی اس میں نہ تھی کہ وہ چوہڑوں اور چماروں کی طرح گالیوں پرکمر باندھتے۔ بلکہ چاہئیے تھا کہ آیت 33 ۱ پر عمل کر کے اور نیز آیت 3 ۲ کو یاد کر کے سلطان کی خیر خواہی اس میں دیکھتے کہ اس کے لئے صدق دل سے دعا کرتے۔ میرے اشتہار کا بجز اس کے کیا مطلب تھا کہ رومی لوگ تقویٰ اور طہارت اختیار کریں کیونکہ آسمانی قضا و قدر اور عذاب سماوی کے روکنے کے لئے تقویٰ اور توبہ اور اعمال صالحہ جیسی اور کوئی چیز قوی تر نہیں۔ مگر سلطان کے نادان خیر خواہوں نے بجائے اس کے مجھے گالیاں دینی شروع کرؔ دیں اور بعضوں نے کہا کہ کیا سارے گناہ سلطان پر ٹوٹ پڑے اور یورپ مقدس اور پاک