کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آ رہے تھے اور اس کو کہا کہ ذرہؔ نظر غور کر کے دیکھ کہ صاحب ڈپٹی کمشنر کے قریب دوسرا شخص کرسی پر بیٹھا ہوا کون ہے تب وہ دیکھ کر بہت شرمندہ ہوا اور کہا یہ تو وہی ہیں جن کی نسبت لوگوں نے اڑایا ہے کہ وہ گرفتار اور حراست میں ہے۔ اور پھر چوتھا غیبی فعل یہ ہے کہ میری حاضری کا دن محمد حسین بٹالوی کے لئے گویا عید کا دن تھا اور وہ اپنے دل میں اس روز میری ذلت اور بے عزتی کے بہت سے تصورات باندھے ہوئے تھا اور گویا اس وقت میری ذلت مشہور کرنے کے بارے میں اپنے دل میں اشاعۃ السنہ کے کئی ورق لکھ رہا تھا کہ خدا نے وہ ذلت اٹھا کر اسی کے سر پر ماری اور میرے روبرو اور میرے دوستوں کے روبرو کرسی مانگنے پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے ایسی سخت تین جھڑکیاں اس کو دیں کہ اس کو مارگئیں۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ میری ذلت دیکھنے آیا تھا اور اپنی ذلت اس کو پیش آئی۔ اور پھر اندر سے جھڑکیاں کھا کر باہر آیا جہاں اردلی کھڑے ہوتے ہیں اور اندر کے معاملہ کی پردہ پوشی کے لئے ایک کرسی پر جو باہر کے کمرہ میں تھی بیٹھ گیا اور اردلیوں کو معلوم تھا کہ اس شخص کو کرسی نہیں ملی بلکہ کرسی کی درخواست پر اس نے جھڑکیاں کھائیں اس لئے انہوں نے کرسی پر سے اس کو جھڑک کر اٹھا دیا پھر اس طرف سے پولیس کے کمرہ کی طرف آیا اور اتفاقاً ایک اور کرسی باہر کے کمرہ میں بچھی ہوئی تھی اس پر بیٹھ گیا۔ تب کپتان صاحب کی اس پر نظر جاپڑی اور اسی وقت کنسٹبل کی معرفت جھڑکی کے ساتھ کرسی پر سے اٹھایا گیا۔ اس وقت غالباً ہزار آدمی کے قریب یا اس سے زیادہ اس کی اس ذلت کو دیکھتے ہوں گے۔ لوگوں نے یقین کرلیا کہ جھوٹے مقدمہ میں اس نے پادری کی گواہی دی اس لئے یہ سزا ملی۔ پانچواں غیبی فعل یہ ہے کہ باوجودیکہ یہ مقدمہ حسب اقرار ڈاکٹر کلارک کے تین قوموں کے اتفاق سے قائم کیا گیا تھا اور اس مقدمہ کی پیروی میں پادریوں نے پورا زور دیا تھا اور سرکاری مقدمہ سمجھا گیا تھا تب بھی خدا نے کپتان ڈگلس صاحب کے ہاتھ سے