کی آنکھ دی جاتی تو اس سے وہ بڑا دینی فائدہ حاصل کر سکتا تھا بھلا ہم محمد حسین اور اس کے ہم خیال لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ یہ تمام غیبی افعال جو میری تائید میں اور میری عزت کی حفاظت کے لئے اور میرے اعداء کو شرمندہ کرنے کے لئے ظہور میں آئے یہ کس کے افعال تھے؟ آیا خدا کے یا انسان کے؟ اور تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے یہ غیبی فعل ظہور میں آیا کہ میری گرفتاری میں توقف ڈال دی گئی اور امرتسر کا وہ وارنٹ جس کے ساتھ چالیس ہزار روپیہ کی ضمانت کا حکم اور بیس ہزار کا مچلکہ تھا ایک حیرت افزا طریق سے روک دیا گیا۔ یہ وارنٹ امرتسر کے مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت سے یکم اگست ۱۸۹۷ ء کو جاری ہوا تھا مگر ۷؍ اگست ۱۸۹۷ ء تک گورداسپورہ میں پہنچ نہ سکا اور کچھ پتہ نہ لگا کہ کہاں گیا اور آخر حکم امتناعی پہنچا کہ وارنٹ کی تعمیل روک دی جائے کیونکہ مجسٹریٹ کو معلوم ہوا کہ وہ غیر ضلع کے ملزم پر وارنٹ جاری کرنے کا قانوناً مجاز نہیں ہے۔ یہ تو پہلا غیبی فعل تھا جو میری تائید کے لئے ظہور میں آیا۔
پھر دوسرا غیبی فعل یہ تھا کہ جب مثل منتقل ہوکر گورداسپورہ میں آئی تو باوجودیکہ امرتسر کے مجسٹریٹ نے وارنٹ جاری کیا تھا مگر صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ نے باوجود ڈاکٹر کلارک اور اُس کے وکیل کے بہت اصرار اور ہاتھ پیر مارنے کے بجائے وارنٹ سمن جاری کر دیا اور وارنٹ سے انکار کیا۔
اور پھر تیسرا غیبی فعل یہ تھا کہ محمد حسین وغیرہ مخالفوں نے چاہا تھا کہ میری ذلت کی حالت دیکھیں مگر ان کو میری عزت کی حالت دکھائی گئی۔ میں نے اپنی جماعت کے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ ایک شریر مخالف کچہری کے وقت ایک شخص سے میرا نام لے کر باتیں کرتا تھا کہ آج وہ شخص پولیس کی حراست میں ہے اور ہتھکڑی ہاتھ میں پڑی ہوئی ہے اس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا اس لئے یہ سزا ملی۔ تب دوسرے شخص نے جس سے وہ باتیں کرتا تھا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اس موقعہ پر کھڑا کیا جہاں صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ عدالت کی