اس کو خارج کرایا اور مجھے بَری کیا۔
اب یہ پانچ فعل جو ظہور میں آئے یہ دانشمندوں کے لئے سوچنے کے لائق ہیںؔ کہ یہ کس کا کام ہے؟ عقلمند لوگ سوچ لیں کہ جب کہ یہ مقدمہ میرے پر سرکار کی طرف سے دائر ہوا تھا اور ایک خطرناک مقدمہ تھا اور میری ذلت کے لئے ہر طرف سے لوگ زور دے رہے تھے تو ایسی حالت میں کس طاقت عظمیٰ نے مجھے عزت دی اور محمد حسین کو سخت ذلیل کیا اور کلارک کو بھی نہایت سُبکی اور ندامت پہنچائی کہ عدالت نے قوی شبہ کیا کہ یہ مقدمہ عبدالرحیم عیسائی و وارث دین وغیرہ عیسائیوں اور ان کے متعلقین کی بناوٹ ہے۔ کیا یہ فعل خدا کا ہے یا انسان کا؟ کیا خدا کی تائید کے بجز اس کے کوئی اور بھی معنے ہیں کہ خدا نے مخالفوں میں پھوٹ ڈال دی اور حق کو ظاہر کر دیا اور جو میرے ذلیل کرنے کے درپئے تھا اس کو حاکم اور خلق اللہ کے ذریعہ سے ذلت پہنچائی۔ حاکم کے ذریعہ سے جو ذلت ہوئی اس کی حقیقت آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اس نے کرسی مانگنے پر محمد حسین کو سخت جھڑکیاں دیں اور یہ جھڑکیاں نہایت مناسب اور عین محل پر تھیں کیونکہ محمد حسین نے حلفی شہادت کے مقام پر کھڑا ہو کر دو جھوٹ بولے۔ اوّل یہ کہ اس کو عدالت میں کرسی ملتی ہے اور دوسرے یہ کہ اس کے باپ رحیم بخش کو بھی کرسی ملتی تھی اور یہ دونوں جھوٹ نہایت مکروہ اور قابل شرم تھے کیونکہ محمد حسین ایک خشک ملّا بلکہ نیم ملّا ہے جو چند حدیثیں نذیر حسین سے پڑھ کر مولوی کہلاتا ہے جس کے ہم جنس ہزاروں ملّا مسجدوں کے حُجروں میں مسلمانوں کی روٹیوں پر گذارہ کرتے ہیں اس کو کس دن عدالت میں کرسی ملی اور کن رئیسوں میں شمار کیا گیا۔ اور ایسا ہی رحیم بخش اس کا باپ تھا جو بٹالہ کے بعض رئیسوں کی نوکریاں کر کے گذارہ کرتا تھا۔ ہاں بٹالہ کے رئیس میاں صاحب نے ایک مرتبہ اس کو نوکر رکھا تھا۔ معلوم نہیں کہ تنخواہ پر یا صرف روٹی پر۔ پھر سنا ہے کہ بٹالہ کے بعض ہندو مہاجنوں کے پاس بھی نوکر رہا اور اس طرح پر گذارہ کرتا رہا۔ ایک دفعہ ہمارے پاس بھی نوکر رہنے کے لئے آیا تھا