کا نہ ہو۔ اور وہ ذلت پہنچی کہ مجھے تمام عمر میں اس کی نظیر یاد نہیں۔ پس بے چارہ غریب اور خاموش اور ترساں اور لرزاں ہوکر پیچھے ہٹ گیا اور سیدھا کھڑا ہوگیا اور پہلے میز کی طرف جھکا ہوا تھا۔ تب فی الفور مجھے خداتعالیٰ کا یہ الہام یاد آیا کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَن اَرَادَ اِھَانَتَکَ یعنی میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت چاہتا ہے۔ یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں۔ مبارک وہ جو ان پر غور کرتے ہیں۔
خیال کرنا چاہیے کہ محمد حسین اس وقت اس خوشی سے بھرا ہوا کچہری میں آیا تھا کہ میں اس شخص کو گرفتار اور ہاتھ میں ہتھکڑی اور ذلیل جگہ جوتوں میں بیٹھا ہوا دیکھوں گا۔ تب میرا جی خوش ہوگا اور اپنے نفس کو کہوں گا کہ اے نفس تجھے مبارک ہو کہ تو نے آج اپنے مخالف کو ایسی حالت میں دیکھا۔ لیکن اس بدقسمت کے ایسے طالع کہاں تھے کہ یہ خوشی کا دن دیکھے سو آخر اس بد نصیب نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ کچہری کے اندر قدم ڈالتے ہی مجھے صاحب ڈپٹی کمشنر کے پاس عزت کے ساتھ کرسی پر بیٹھا ہوا پایا۔ ایسے دل آزار مشاہدہ نے اس کے نفس کو بے بس کر دیا اور اپنے حریف کو ایسی عزت کی حالت میں دیکھ کر اس کا نفس امّارہ حاسدانہ جوش میں آیا اور جاہ طلبی کا جوش بھڑکا اور بے اختیار ہو کر بول اٹھا کہ مجھے کرسی ملنی چاہیے۔ تب جو حالت اس کی ہوئی سو ہوئی۔ یہ تمام سزا اس بد اندیشی کی تھی جو اس نے میری نسبت کی۔
گندم از گندم بروید جو ز جو
از مکافات عمل غافِل مشو
نادان نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر میں مظلوم ہوکر اس کی خواہش کے موافق بذریعہ وارنٹ گرفتار کیا جاتا اور ہتھکڑی ڈالی جاتی اور ذلیل جگہ میں بٹھایا جاتا اور جیسا کہ اس کی تمنا تھی پھانسی دیا جاتا یا حبس دوام کی سزا پاتا تو میرا اس میں کیا حرج تھا۔ خدا کی راہ میں ہر ایک ذلت اور موت فخر کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس دنیا کے جاہ و جلال کو نہیں چاہتا۔ لیکن اس نے دشمنوں کے ارادوں اور خواہشوں پر نظر ڈال کر مجھے اس ذلت اور ذلت کی موت سے بچالیا۔ یہ اس کا کام ہے اس نے جوؔ کچھ کیا اپنی مرضی سے کیا۔ محمد حسین کو اگر بصیرت