مقدمہ کا ابھی نام و نشان نہ تھا۔ ہماری جماعت کا غالباً دوسو۲۰۰ کے قریب ایساؔ آدمی ہوگا جن کو پیش از وقت ان الہامات کی خبر مل گئی تھی۔ سووہ مقدمہ اور وہ ابتلا تو ختم ہوگیا اور اس کا نتیجہ ایک عظیم الشان پیشگوئی اور نصرت الٰہی کا نشان رہ گیا جو ہمیشہ بطور یادگار رہے گا۔ اس جگہ ہمیں اپنی وہ مسیح موعود فارسی الاصل ہوگا۔ سو غور کرنے والے کے لئے اس مقام میں نہایت بصیرت حاصل ہوتی ہے اور تمام حدیثیں ہر ایک قسم کے تناقض سے صاف ہوکر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شخص جو پھر آسمان سے ایمان اور دین اور علم کو واپس لائے گا یعنی دوبارہ دنیا کو طرح طرح کے نشانوں سے خدا پر سچا یقین بخشے گا اورایمانوں کو قوی کرے گا اور عقائد کی تصحیح کرے گا اور قرآن کے حقائق و معارف سمجھائے گا وہ فارسی الاصل ہوگا اور وہی مسیح موعود ہوگا۔ اور حدیث بخاری اورابو داؤد سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس کا زمانہ وہ ہوگا کہ جب دنیا میں سب سے زیادہ نصاریٰ کی سلطنت کی شوکت و شان بڑھی ہوئی ہوگی اور اکثر ملک ان کے تصرف میں ہوں گے۔ اور صحیح بخاری اور مسلم میں یہ حدیث بھی ہے کہ وہ نہ ہتھیار اٹھائے گا اور نہ لڑائی کرے گا بلکہ حجج سماویہ یعنی نشان اور براہین عقلیہ سے غیر ملتوں کو ہلاک کر دے گا اور اس کا حربہ آسمانی ہوگا نہ زمینی۔ سو شکر کرو کہ تمہارےؔ وقت میں اور تمہارے ملک میں خداتعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا۔ ان لوگوں کو کیا ایمان نفع دے گا جو پوری روشنی کے بعد آئیں گے۔ حدیث میں اسی فارسی الاصل کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آج سے اٹھارہ برس پہلے براہین احمدیہ میں خداتعالیٰ کے الہام نے کر دیا ہے اور وہ یہ ہے انّا فتحنالَکَ فَتحًا مُبینًا۔ فتح الولی فتح و قربناہ نجیّا۔ اشجع الناس۔ و لو کان الایمان معلقا بالثریا لنالہ، انار اللّٰہ برھانہ۔ یا احمد فاضت الرحمۃ علی شفتیک۔۔۔ انی رافعک الیّ والقیتُ علیک محبّۃ مِنّی۔۔۔ خذوا التوحید التوحید یا ابناء الفارس۔ و بشرالذین آمنوا ان لھم قدم صدق عند ربھم۔ واتل علیھم ما اوحی الیک من ربک و لا تصعّر لخلق اللّٰہ و لا تسئم من الناس۔ اصحاب الصفۃ وما ادراک ما اصحاب