اصلیت حکام پر کھول دی اور مجھے پہلے ؔ سے بذریعہ الہام اطلاع دے دی تھی کہ ایسا مقدمہ ہوگا اور آخر تمہیں بری کیا جائے گا اور وہ الہامات اس وقت میں نے اپنی جماعت میں شائع کئے جبکہ جلال سے ظاہر ہوگی۔ وہ اپنی کبریائی کے استغناء کے سبب سے بلند مزاجی دکھلائے گا اور شریروں کے آگے تذلل نہیں کرے گا اور آخر شریر خود تذلل ظاہر کریں گے۔ اس جگہ یاد رہے کہ آج سے اٹھارہ برس پہلے براہین احمدیہ میں ان دونوں علامتوں کی طرف الہام الٰہی میں اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام یہ ہے کہ اَلقیتُ علیک محبّۃً منی یعنی میں نے اپنی طرف سے کشش محبت کا نشان تجھ میں رکھ دیا ہے کہ جو شخص تعصب سے خالی ہو کر تجھے دیکھے گا وہ بالطبع تجھ سے محبت کرے گا اور تیری طرف کھینچا جائے گا۔ اور دوسرے یہ الہام ہے کہ نُصرتَ بالرُّعب یعنی تجھ میں ایک علامت رعب بھی رکھ دی ہے۔ اور سوچنے والے اور موجودہ حالات کوؔ دیکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ دونوں علامتیں اس بندہ حضرت عزت میں پوری ہوتی جاتی ہیں۔ اکثر نیک دل آدمی کھینچے جا رہے ہیں اور مخالفوں پر دن بدن رعب زیادہ ہو رہا ہے وہ اپنے ارادوں سے نومید ہوتے جاتے ہیں اور بعض توبہ کرتے جاتے ہیں۔ اور منجملہ نصوص حدیثیہ کے ایک وہ دلیل ہے جو مسلم نے لکھی ہے یعنی یہ کہ لَو کانَ الدّینُ عِنْدَ الثریّا لَذَھَبَ بہٖ رَجُلٌ مِنْ فارس یعنی اگر دین ثریّا کے پاس بھی ہو تب بھی ایک مرد فارس میں سے اس کو لے آئے گا۔ یہ حدیث صاف دلالت کرتی ہے کہ اسلام پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب دین اور علم اور ایمان میں ضعف آ جائے گا اور جور اور ظلم زمین پر پھیل جائے گا اور اس وقت ایک شخص فارسی الاصل پیدا ہوگا جو اس کو پھر زمین پر واپس لائے گا۔ اور ابھی گذشتہ حدیث سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ شخص جس کے ہاتھ سے ہر ایک قسم کے ظلم اور فسق زوال پذیر ہوں گے وہی مہدی موعود ہے اور حدیث لا مھدی الا عیسٰیسے ثابت ہوتا ہے کہ وہی مسیح موعود ہے۔ اور اب اس حدیث سے معلوم ہوا کہ