محسن گورنمنٹ کا شکر اداؔ کرنا ضروری ہے کہ باوجودیکہ مقدمہ پادریوں کی طرف سے تھا مگر مجسٹریٹ ضلع نے جو ایک انگریز تھا ہرگز روا نہ رکھا کہ ایک ذرہ پادریوں کی رعایت کی جائے اور جو کچھ انصاف کا تقاضا تھا وہی کیا اور اس کی بصیرت اور فراست نے فی الفور دریافت کرلیاکہ الصفۃ۔ تریٰ اعینھم تفیض من الدمع۔ یصلون علیک۔ ربّنا انّنا سمعنا منادیا ینادی للایمان و داعیا الی اللّٰہ و سراجا منیرا۔ اَمْلُوا۔ دیکھو صفحہ ۲۴۱۔۲۴۲۔ براہین احمدیہ۔ ترجمہ۔ ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے یعنی دیں گے۔ ولی کی فتح ایک بزرگ فتح ہے اور ہم نے اسے اپنا مقرب اور رازدار بنایا ہے وہ سب سے زیادہ بہادر ہے۔ اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو وہاں سے لے آتا۔ خدا اس کے برہان کو روشن کرے گا۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری ہے۔ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور اپنی محبت تیرے پر ڈالوں گا۔ یعنی لو گ ایک روحانی کشش سے تجھ سے محبت کریں گے اور تیری طرف کھینچے جائیں گے۔ توحید کو پکڑو۔ توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔ اور ان کو خوش خبری دے جو تجھ پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ خدا کے نزدیک صادق ٹھہر گئے اور ان کا صدق قدم ثابت ہوا تو ان کو میرے الہامات سنا اور مخلوق اللہ سے منہ مت پھیر اور ان کی ملاقات سے مت ملول ہو۔ یعنی وہ وقت آتا ہے کہ وہ کثرت سے اور فوج در فوج تیرے پاس آئیں گے سو خُلق اور برداشت سے ان کی ملاقات کرنا۔ اور پھر فرمایا کہ ان میں سے ایک گروہ ہوگا (جو اکثر حاضر رہیں گے) جن کا نام خداتعالیٰ کے نزدیک اصحاب الصفہ ہے اور تو کیا جانتا ہے کہ اصحاب الصفہ کیا چیز ہیں یعنی ان کی شان بہت بڑی ہے۔ تو دیکھے گا کہ اکثر اوقات ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے اور تجھ پر درود بھیجیں گے یعنی جبکہ وہ کوئی حکمت کے کلمے اور معارف اور حقائق سنیں گے یا نشان دیکھیں گے یا انشراح اور یقین کی حالت ان پر غلبہ کرے گی تو وہ محبت اور تودّدکے جوش سے تجھ پر درؔ ود بھیجیں گے اور تیرے حق میں دعا کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے رب ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی جو ایمان کے لئے منادی کرتا ہے اور خدا کی طرف بلاتا ہے اور چراغ روشن ہے۔ (لکھ لو) ان الہامات میں صاف طور پر بتلا دیا کہ بڑا کام تمہارا ایمان کی منادی ہے۔ اور حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ اس فارسی الاصل کو یہی سخت ضرورت پیش آئے گی کہ لوگوں کا ایمان تازہ ہو اور اس کو قدرت دی جائے گی کہ اگر ایسا زمانہ بھی ہو کہ ایمان بکلی زمین پر سے معدوم ہو جائے تب بھی وہ ایمان کو آسمان سے