اس کے بیان میں بہت تناقض تھا اور یقینی طور پر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر روز اس کو سکھلایا جاتا ہے۔ ان ہی تمامؔ وجوہات اور خود اس کے اقرار سے مقدمہ کی اصلیت یہ ثابت ہوئی کہ عبدالرحیم اور وارث دین وغیرہ عیسائیوں کی تعلیم سے یہ مقدمہ کھڑا کیا گیا تھا ۔ لیکن اللہ جلّ شانہ کا شکر ہے کہ اس نے اس کی
ہے نہ آنکھوں میں نہ کانوں میں اور نفسانی جذبات کا سیلاب زور سے بہہ رہا ہے نہ ایمانی حالتیں درست ہیں نہ عملی ۔ اخلاقی بصیرتیں گم ہیں ۔ فراستیں مفقود ہیں ۔ وہ محبت الہٰی اور وہ انس اور وہ ذوق اور وہ غربت اور انکسار اور تقویٰ اور خوف اور خشوع اور صدق اور راستبازی جو قرآن نے سکھلائی تھی معدوم کی طرح ہو گئی ہے ۔ مخلوق پرست شرک پھیلانے میں سرگرم ہیں اور فاسق لوگ جابجا فسق کی دوکانیں کھولے بیٹھے ہیں اور ایمان ایک ایسی چیز ہوگئی ہے جو صرف زبانوں میں اس کا دعویٰ رہ گیا ہے ۔ الَّا قلیل منؔ العباد ۔ سو درحقیقت یہ وہی زمانہ ہے جو حدیث کے منشاء کے موافق ہے یعنی جس میں ہر ایک قسم کا گناہ اور ہر ایک قسم کی بدکاری اور ہر ایک قسم کی بد اعتقادی پھیل گئی ہے اور شرک جو ظلم عظیم ہے اس کا جھنڈا نہایت زور سے کھڑا کیا گیا ہے اور یہ حدیث نہایت وضاحت سے بیان کر رہی ہے کہ حالت موجودہ کا ظلم اور جور جس طرز کا ہو گا اسی کی اصلاح کے لئے وہ مہدی موعودآئے گا ۔ اور یہ جو روشن پیشانی*اور اونچی ناک والا اس کو لکھاہے یہ علامت صرف ظاہری حلیہ تک محدود نہیں کیونکہ اس ظاہری حلیہ میں تو ہزاروں انسان شریک ہیں بلکہ اس جگہ علاوہ اس ظاہری علامت کے ایک باطنی حقیقت بھی مراد ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ اس کی پیشانی میں ایک نور صدق رکھ دے گا جو دلوں کو اپنی طر ف کھینچے گا اور اس کی ناک میں کبریائی کی ایک علامت ہوگی جو بلندی ناک سے مشابہ ہے اور کبریائی یہ ہے کہ اس کا رعب اور اس کی عظمت دلوں میں خدائی سیاست ڈالے گی ۔ اور اگرچہ یہ دونوں علامتیں خدا تعالیٰ کے ہر ایک خاص بندے میں ہوتی ہیں مگر حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مہدی موعود میں نہایت قوت سے اور نمایاں طور پر پائی جائیں گی۔ اس کی پیشانی کا نور کثرت سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچے گا ۔ یہاں تک کہ نادان خیال کریں گے کہ شاید یہ شخص ساحر ہے ایسا ہی اس کا رعب بشدّت مخالفوں پرپڑے گا ۔ اور کبریائی کی علامت جس کا مظہر ناک ہے نہایت
*یہ دونوں علامتیں ظاہری طور پر بھی میرے ہادی جناب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جمال پُر انوار کی رونق اور حسن کو دوبالا کر رہی ہیں۔ فِدَاہُ اُمِّیْ وَ اَبِیْ۔ خاکسار کاتب۔