یہ بھی ثابت ہو گیا کہ عبدالحمید نے جو اپنا نام بدلا یا یہ صرف اس غرض سے تھا کہ گجرات کے مشنؔ سے وہ بوجہ بد چلنی نکالا گیا تھااور اس کو اندیشہ تھا کہ اگر میں اصل نام بیان کروں تو پھر مجھے نہیں لیں گے اور اس کا عیسائی ہونا محض کھانے پینے کے لئے تھا اورعدالت میں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کہ ؔ نشا۱ن ظاہر ہوئے اور پیشگوئیاں ظہور میں آئیں اور پادریوں کا منہ بند کیا گیا ۔ اور اگر وہ حیا سے کام لیں تو آئندہ اعتراض کی ان کو جگہ نہ رہے ۔ اور قرآن کی اعلیٰ تعلیم نے جو میری طرف سے بیان کی گئی بڑے بڑے جلسوں میں لوگوں کا سر جھکا دیا*اور عیسائی مذہب کے اصول کو ایسے طور سے توڑا گیا کہ کبھی کسی کو پہلے اس سے میسر نہ آیا ۔ بھلا اگر یہ صحیح نہیں ہے تو ہمارے مخالف مولوی پادری صاحبوں کی طرف سے وکیل بن کر کوئی ایک سوال ان کا تو ایسا پیش کریں جس کو ہم نے براہین قطعیہ سے کالعدم نہیں کردیا یا یہی دکھاویں کہ ہم سے پہلے اس تحقیقی طور سے کبھی کسی نے جواب دیا تھا۔ ان لوگوں کو خدا تعالےٰ سے شرم کرنی چاہیئے ۔ کہاں تک اور کب تک سچائی سے لڑیں گے ؟ !! از آنجملہ نصوص حدیثیہ میں ایک دلیل مسیح موعود کے زمانہ کی یہ لکھی ہے کہ اس کے ظہور سے پہلے زمین ظلم اور جور سے بھری ہوئی ہوگی اور پھر وہ مہدی موعود عدل اور انصاف سے زمین کو پُر کرے گااور وہ روشن پیشانی اور اونچی ناک والا ہو گا ۔ کذا فی المشکوۃ رواہ ابوداؤد والحاکمایضااب ظاہرہے کہ اس زمانہ میں ہر ایک قسم کے ظلم یعنی معصیت اور افراط اور تفریط اور فسق اور فجور سے زمین بھری ہوئی ہے اور زمین کی تمام تاریکیاں زور کے ساتھ جوش مار رہی ہیں اکثر دلوں پر دنیا اور دُنیا کی خواہشیں اس درجہ پر غالب ہیں کہ گویا ان میں خدا تعالیٰ کی جگہ کچھ بھی باقی نہیں رہی نہ زبانوں میں تقویٰ باقی *دانشمند لوگ اس مضمون کو پڑھیں جو مہوتسو کے جلسہ میں میری طرف سے پڑھا گیا تھا جو تمام قوموں کی تقریروں کے ساتھ کتاب کے طور پر شائع ہو چکا ہے تا معلوم ہو کہ کیسے کیسے معارف قرآنی و نکات فرقانی اس میں لکھے گئے ہیں جو بطور اعجاز مانے گئے ۔منہ