اس کے عدالت میں یہ بات بھی ثابت ہو ؔ گئی کہ عبدالحمید براہ راست ڈاکٹر کلارک کے پاس نہیں گیا تھا بلکہ اوّل نورالدین عیسائی کی چٹھی لے کر پادری گرے کے پاس گیا تھا ۔ اگر اصل مقصد اس کا ڈاکٹر کلارک کو قتل کرنا ہوتا تو پادری گرے کے ساتھ اس کا کیا کام تھا۔ عدالت میں کسر صلیب کرنے والا ہو کیونکہ مجدّد بطور طبیب کے ہے اور طبیب کا کام یہی ہے کہ جس بیماری کا غلبہ ہو اس بیماری کی قلع قمع کی طرف توجہ کرے ۔ پس اگر یہ بات صحیح ہے کہ کسر صلیب مسیح موعود کا کام ہے تو یہ دوسری بات بھی صحیح ہے کہ چودھویں صدی کا مجدّد جس کا فرض کسر صلیب ہے مسیح موعود ہے ۔ لیکن اس جگہ طبعاََیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعود کو کیونکر اور کن وسائل سے کسر صلیب کرنا چاہیئے ؟ کیا جنگ اور لڑائیوں سے جس طرح ہمارے مخالف مولویوں کا عقیدہ ہے ؟ یا کسی اور طور سے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مولوی لوگ (خدا ان کے حال پر رحم کرے۔) اس عقیدہ میں سراسر غلطی پر ہیں ۔ مسیح موعود کا منصب ہر گز نہیں ہے کہ وہ جنگ اور لڑائیاں کرے بلکہ اس کا منصب یہ ہے کہحجج۱عقلیہ اور آیات۲ سماویہ اور دعا۳ سے اس فتنہ کو فرو کرے ۔ یہ تین ہتھیار خدا تعالیٰ نے اس کو دئیے ہیں اور تینوں میں ایسی اعجازی قوت رکھی ہے جس میں اس کا غیر ہر گز اس سے مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ آخر اسی طور سے صلیب توڑا جائے گا یہاں تک کہ ہر ایک محقق نظر سے اس کی عظمت اور بزرگی جاتی رہے گی اور رفتہ رفتہ توحید قبول کرنے کے وسیع دروازے کھلیں گے ۔ یہ سب کچھ تدریجًا ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے سارے کام تدریجی ہیں ۔ کچھ ہماری حیات میں اور کچھ بعد میں ہوگا۔ اسلام ابتدا میں بھی تدریجًا ہی ترقی پذیر ہوا ہے اور پھر انتہا میں بھی تدریجًا اپنی پہلی حالت کی طرف آئے گا۔ بعض نادان مولوی کہتے ہیں کہ ’’ اب تک تم نے کونسی کسر صلیب کی‘‘؟ پس ان کو یاد رہے