عبدالرحیم نام کو عبدالحمید کا حال دریافت کرنے کے لئے میرے پاس بھیجا تو میں نے اس کی نسبت کچھ بھی اخفانہیںؔ کیابلکہ ظاہر کر دیا کہ وہ اچھا آدمی نہیں اور جو اپنانام رلیا رام بیان کرتاہے یہ بیان سراسر جھوٹ ہے ۔ اب عقلمند اسی بات سے سمجھ سکتا ہے کہ اگر میں نے درحقیقت عبدالحمید کو خون کرنے کے لئے بھیجا تھا تو پھر میں اس کی چال چلن سے کیونکر ڈاکٹر کلارک کو متنبّہ کرتا ۔ماسوا بڑھا ہوا ہے ۔ پھر ایسے لوگوں کی مجاورت کے اثر سے عمومًا ہر ایک قوم میں بے قیدی اور آزادی بڑھ گئی ہے ۔ اگرچہ لوگ بیماریوں سے ہلاک ہوجائیں اور اگرچہ و با ان کو کھا جائے مگر کسی کو خیال بھی نہیں آتا کہ یہ تمام عذاب شامت اعمال سے ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ یہی تو ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو گئی ہے ا ور اس ذوالجلال کی عظمت دلوں پر سے گھٹ گئی ہے۔ غرض جیسا کہ کفّارہ کی بے قیدی نے یورپ کی قوموں کو شراب خواری اور ہر ایک فسق وفجور پر دلیر کیا ایسا ہی ان کا نظارہ دوسری قوموں پر اثر انداز ہوا۔ اس میں کیا شک ہے کہ فسق وفجور بھی ایک بیماری متعدی ہے ایک شریف عورت کنجریوں کی دن رات صحبت میں رہ کر اگر صریح بدکاری تک نہیں پہنچے گی تو کسی قدر گندے حالات کے مشاہدہ سے دل اس کا ضرور خراب ہوگا۔ غرض صلیبی عقیدہ ہی تمام بے قیدیوں اور آزادیوں کی جڑ ہے اور اس میں کچھ بھی کلام نہیں کہ وہ عقیدہ ان ملکوں میں نہایت خطرناک طور پر پھیل رہا ہے اور کئی لاکھ تک ان لوگوں کا شمار پہنچ گیا ہے کہ جو پادریوں کے دام میں آکرجوہر ایمان کھو بیٹھے ہیں اور یا پوشیدہ مرتد ہو کر متلاشیوں کے رنگ میں پھرتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی غیرت اور رحمت نے چاہا کہ صلیبی عقیدے کے زہرناک اثر سے لوگوں کو بچاوے اور جس دجّالیت سے انسان کو خدا بنایا گیا ہے اس ؔ دجّالیت کے پردے کھول دیوے اور چونکہ چودھویں صدی کے شروع تک یہ بلا کمال تک پہنچ گئی تھی ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل اور عنایت نے چاہا کہ چودھویں صدی کا مجدّد