یہ ایک بناوٹ تھی جس کو صاحب مجسٹریٹ ضلع نے بخوبی دریافت کر لیا اور ہر ایک شخص جو اس تحریر پر غور کرے گا اور اس مقدمہ کو اوّل سے آخر تک غور سے پڑھے گا وہ دلی یقین سے سمجھ لے گا کہ ان لوگوں نے ؔ جو مسیح کے خون سے پاک ہوجانے کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکر ایک ناحق کے خون کیلئے پختہ سازش کی تھی۔ یہ ظاہر ہے اور ڈاکٹر کلارک کو اس بات کا اقرار ہے کہ جب انہوں نے ایک عیسائی
کے موافق تجدید دین کرے گا اور فقرہ یجدّدلھاجو حدیث میں موجود ہے یہ صاف بتلارہا ہے کہ ہر ایک صدی پر ایسا مجدّد آئے گا جو مفاسد موجودہ کی تجدید کرے گا ۔ اب جب ایک منصف غور سے دیکھے کہ چودھویں صدی کے سر پر کون سے سخت خطرناک مفاسد موجود تھے جن کی تجدید کے لئے مجدّد میں لیاقتیں چاہئیں تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بہت بڑا فتنہ جس سے لاکھوں انسان ہلاک ہو گئے پادریوں کا فتنہ ہے ۔ اور اس سے کوئی عقلمند اور درد خواہ اسلام کا انکار نہیں کرے گا کہ اس صدی کے مجدّد کا بڑا فرض یہی ہوناچاہئے کہ وہ کسر صلیب کرے اور عیسائیوں کی حجتوں کو نابود کردیوے اور جبکہ چودھویں صدی کے مجدّد کا کسر صلیب فرض (کام) ہوا تو اس سے ماننا پڑا کہ وہی مسیح موعود ہے کیونکہ حدیثوں کی رو سے مسیح موعود کی بھی یہی علامت ہے کہ ’’ وہ صدی کا مجدّد ہوگا اور اس کا کام یہ ہوگا کہ کسر صلیب کرے ‘‘ ۔ بہر حال اسوقت کے مولوی اگر دیانت اور دین پر قائم ہو کر سوچیں تو انہیں ضرور اقرار کرناپڑے گا کہ چودھویں صدی کے مجدّد کا کام کسر صلیب ہے ۔ اورؔ چونکہ یہ وہی کام ہے جو مسیح موعود سے مخصوص ہے اس لئے بالضرورت یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چودھویں صدی کا مجدّد مسیح موعود چاہیئے اور اگرچہ چودھویں صدی میں اور فسق وفجور بھی مثل شراب خوری و زناکاری وغیرہ بہت پھیلے ہوئے ہیں مگر بغور نظر معلوم ہوگا کہ ان سب کا سبب ایسی تعلیمیں ہیں جن کا یہ مدعا ہے کہ ایک انسان کے خون نے گناہوں کی باز پُرس سے کفایت کردی ہے ۔ اسی وجہ سے ایسے جرائم کے ارتکاب میں یورپ سب سے