جو اثر کہ اس کی باتوں سے اس کے بے علم مریدوں پر ہو گا اس کی ذمہ واری انہی پر ہو گی اور ہم انھیں متنبّہ کرتے ہیں کہ جب تک وہ زیادہ تر میانہ روی کو اختیار نہ کریں گے وہ قانون کی رو سے بچ نہیں سکتے بلکہ اس کی زد کے اندر آ جاتے ہیں ۔ دستخط ایم ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور ۲۳؍اگست ۱۸۹۷ ؁ء یہؔ تمام مقدمہ جو معہ رائے حاکم لکھا گیا ہے اس میں غور کرنے سے ظاہر ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے جہاں مسیح موعود کا ذکر کیا ہے اس جگہ صرف اسی پر کفایت نہیں کی کہ اس کا حلیہ گندم گوں اور صاف بال لکھا ہے بلکہ اس کے ساتھ دجّال کا بھی جابجا ذکر کیاہے مگر جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلی کا ذکر کیا ہے وہاں دجّال کا ساتھ ذکر نہیں کیا ۔ پس اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں عیسیٰ بن مریم دو تھے ایک وہ جو گندم گوں اور صاف بالوں والا ظاہر ہونے والا تھاجس کے ساتھ دجّال ہے اور دوسرا وہ جو سرخ رنگ اور گھونگریالے بالوں والا ہے اور بنی اسرائیلی ہے جس کے ساتھ دجّال نہیں اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام شامی تھے اورشامیوں کو آدم یعنی گندم گوں ہر گز نہیں کہا جاتا مگرہندیوں کو آدم یعنی گندم گوں کہا جاتا ہے ۔ اس دلیل ؔ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ گندم گوں مسیح موعود جو آنے والا بیان کیاگیا ہے وہ ہرگز شامی نہیں ہے بلکہ ہندی ہے۔ اس جگہ یاد رہے کہ نصاریٰ کی تواریخ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی گندم گوں نہیں تھے بلکہ عام شامیوں کی طرح سرخ رنگ تھے ۔ مگر آنے والے مسیح موعود کا حلیہ ہر گز شامیوں کا حلیہ نہیں ہے جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے ۔ اور منجملہ ان دلائل کے جو نصوص حدیثیہ سے صحت وصدق دعویٰ اس راقم پر قائم ہوئے ہیں وہ حدیث بھی ہے جو مجدّدوں کے ظہور کے بارے میں ابوداؤد اور مستدرک میں موجود ہے یعنی یہ کہ اس امت کے لئے ہر ایک صدی کے سر پر مجدّد پیدا ہوگا اور ان کی ضرورتوں