سے تعلق ہے ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لئے ضمانت لی جائے یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے ۔ لہٰذا وہ بری کئے جاتے ہیں* ۔ لیکن ہم اس موقعہ پر مرزا غلام احمد کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں نے خود پڑھ لیا اور اس پر دستخط کردیئے ہیں باضابطہ طور سے متنبہ کرتے ہیں کہ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت میں پیش ہوئی ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں جن سے ان لوگوں کی ایذا متصور ہے جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں ۔
مسیح ؔ موعود کے بارے میں حدیث ہے جس میں یہ بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عالم کشف میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اس میں اس کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ وہ گندم گوں تھا اور اس کے بال گھونگروالے نہیں تھے بلکہ صاف تھے ۔ اور پھر اصل مسیح علیہ السلام جو اسرائیلی نبی تھااس کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ وہ سرخ رنگ تھا جس کے گھونگر والے بال تھے۔ اور صحیح بخاری میں جابجا یہ التزام کیا گیا ہے کہ آنے والے مسیح موعود کے حلیہ میں گندم گوں اور سیدھے بال لکھدیا ہے اور حضرت عیسٰے کے حلیہ میں جابجا سرخ رنگ اورگھونگروالے بال لکھتا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود کو ایک علیحدہ انسان قرار دیا ہے اور اس کی صفت میں امامکم منکم بیان فرمایا ہے اور حضرت عیسٰے علیہ السلام کو علیحدہ انسان قرار دیا ہے۔ اور بعض مناسبات کے لحاظ سے عیسیٰ بن مریم کا نام دونوں پر اطلاق کر دیا ہے۔
اور ایک اور بات غور کرنے کے لائق ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
*یہ حکم بری کرنے کا جو ۲۳ ؍اگست ۱۸۹۷ ء کو مجسٹریٹ ضلع کی قلم سے نکلا اور یہ نوٹس جو بطور تہدید لکھا گیا یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جن سے ہماری جماعت کو فائدہ اٹھانا چاہیئے کیونکہ ان کو ایک مدت پہلے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ان دونوں باتوں کی خبر دی گئی تھی ۔ اب انہیں سوچنا چاہیئے کہ کیونکر ہمارے خدا نے یہ دونوں غیب کی باتیں پیش از وقت اپنے بندہ پر ظاہر کردیں ۔ جن لوگوں نے یہ نشان بچشم خود دیکھ لیا چاہیئے کہ وہ ایمان اور تقویٰ میں ترقی کریں اور خدا کے نشانوں کو دیکھ کر پھر غفلت میں زندگی بسر نہ کریں ۔ منہ