مگر میعاد متعینہ گذر چکی ہے اور اب پیشگوئی غیر متعلق ہے ۔ ایک اور پیشگوئی میں جس کی میعاد ستمبر ۱۸۹۷ ء میں منقضی ہوگی غلام احمد (موٹے حروف میں ) ڈاکٹر کلارک یا دیگر کسی پادری کو مباہلہ کے لئے طلب کرتے ہیں ۔ وہ اپنے دل سے امید کرتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک منتخب ہوں اور وہ اسے ذلیل سا بزدل آدمی کہتے ہیں ۔ اگر ڈاکٹر کلارک شیطانی تدابیر کو اختیار کرکے بچنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ خود اپنے طور سے جھوٹ کی بیخ کنی کردیگا ۔ ڈاکٹر کلارک کہتا ہے کہ جھوٹ سے اس کی ہی ذات کی طرف اشارہ ہے اور یہاں جو جھوٹ کا لفظ ہے وہ اس جھوٹ سے ملتا ہے جو ۱۸۹۳ ء کی پیشگوئی میں درج ہے ۔ مگر مرزا صاحب اس اتہام سے انکار کرتے ہیں ۔ یہ ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئیاں ڈیلفک الہاموں کی طرح دو پہلو رکھتی ہیں اور اسی میں فائدہ ہے کہ وہ ایسی ہوں۔ مرزاصاحب کچھ مطلب بیان کرتے ہیں اور ڈاکٹر کلارک کچھ ۔ اور اس صورت میں اس امر کاثابت کرنا ناممکن ہے کہ ڈاکٹر کلارک کے معنے ٹھیک ہوں ۔ مرزا صاحب کہتےؔ ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر کلارک کی موت کی نسبت کبھی کوئی پیشگوئی نہیں کی اور جس قدر مطبوعہ شہادت پیش کی گئی ہے ہم منجملہ اس کے کسی میں بھی کوئی صاف اور صریح امر نہیں پاتے جس سے مرزا صاحب کے بیان کی تردید ہوتی ہو ۔ غلام احمد نے اپنے اظہار میں بیان کیا ہے کہ ان کو ان حملات کا کچھ بھی علم نہیں ہے جو آتھم کی جان پر کئے گئے ۔ مگر کہا کہ لیکھرام کی نسبت اس کو علم تھا کہ وہ مرجائے گا اور نیز اس نے دن اور گھنٹہ کی پیش از وقت اطلاع دے دی تھی ۔جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ
ظاہر ہو ۔ اوّل یہ کہ نصوص صریحہ اس کی صحت پر گواہی دیں یعنی وہ دعویٰ کتاب اللہ کے مخالف نہ ہو ۔ دوسرے یہ کہ عقلی دلائل اس کے مؤ یّد اور مصدّق ہوں ۔ تیسرے یہ کہ آسمانی نشان اس مدعی کی تصدیق کریں ۔ سو ان تینوں وجوہ استدلال کے رو سے میرا دعویٰ ثابت ہے ۔ نصوص حدیثیہ جو طالب حق کو بصیرت کامل تک پہنچاتی ہیں اور میرے دعوے کی نسبت اطمینان کامل بخشتی ہیں ان میں سے مسیح موعود اور مسیح بنی اسرائیلی کا اختلاف حلیہ ہے ۔ چنانچہ صحیح بخاری کے صفحہ ۴۸۵و۸۷۶و۱۰۵۵ وغیرہ میں جو