کے بعدکی گئی تھی داخل نہیں سمجھتا اور نہ اس کا اس پیشگوئی میں کچھ اشارہ ہے جو اب بیان کی جاتی ہے کہ وہ ابھی باقی ہے اور جس کا انجام آتھم سے حوالہ دیا گیا ۔ ۱۸۹۳ ؁ء کی ابتدائی پیشگوئی اس طرح ہے ( وہ فریق جو دانستہ جھوٹ کو اختیارکر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور ضعیف انسان کو خدا بنارہا ہے ہلاک ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔ اور (وہ شخص جو سچے خدا کو مان رہا ہے بڑی عزت پائے گا ۔ لفظ ’ ’ ضعیف آدمی کو خدا بنانا ‘‘ صاف طور سے فریق کا تعلق عیسائی گروہ سے ظاہر کرتے ہیں جس فریق میں سے ڈاکٹر کلارک بھی ہے اور قیاسًا’’ وہ شخص‘‘ جس کا بعد ازاں ذکر ہے مرزا صاحب ہے ۔ مرزا صاحب اس سے انکار کرتے ہیں کہ الفاظ فریق اورشخص کا اطلاق کسی خاص شخص پر تھا اور بیان کرتے ہیں کہ ہر صورت میں صرف ان کا اشارہ عبد اللہ آتھم سے تھا نہ ڈاکٹر کلارک سے* ۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ وہ الفاظ جو ان کی طرف سے استعمال کئے گئے ہیں اس بات کی تائید نہیں کرتے مذہب بڑے زور شور سے دنیا میں پھیل گیا اور جیسا کہ آثار میں پہلے سے لکھا گیا تھا، بڑے تشدّد سے میری تکفیر بھی ہوئی ۔ غرض تمام علامات ظاہر ہو چکی ہیں اور وہ علوم اور معارف ظاہر ہو چکے ہیں جو دلوں کو حق کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔ میںؔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کی رو سے کوئی دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا اکمل اور اتم طور پر اس صورت میں ثابت ہو سکتا ہے کہ جبکہ تین۳ پہلو سے اس کا ثبوت *یہ ضرور نہیں کہ الہامی پیشگوئیوں کے پہلو یکدفعہ معلوم ہوجائیں اسی لئے ہمارے خیال میں ابتدا سے یہی رہا کہ یہ پیشگوئی خاص آتھم کے متعلق ہے اور آتھم کے نام ہی بار بار اشتہار جاری ہوئے اور اسی کو قسم کے لئے بلایا گیا۔ ہاں جبکہ بعض اور عیسائیان شریک بحث پر بھی اس پیشگوئی کا اثر پڑا تو یہ سمجھا گیا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی اس میں داخل ہوں گے مگر دراصل ابتدا سے ہمارا علم یہی تھا کہ اس پیشگوئی کا مصداق صرف آتھم ہے ہماری نیت میں کبھی کوئی اور نہ تھا۔ ہاں دوسرں پر ہم نے اثر دیکھا۔ ورنہ ہم نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ جیسا کہ عبد اللہ آتھم اس پیشگوئی میں شریک ہے ایسا ہی دوسرے بھی شریک ہیں اسی لئے ہماری پوری اور اصلی توجہ صرف آتھم کی طرف رہی اور اب تک اسی کو اصلی مصداق پیشگوئی کا سمجھتے ہیں اور اسی کے قسم نہ کھانے اور آخر پیشگوئی کے موافق اسی کے فوت ہوجانے سے ہم نے فائدہ اٹھایا نہ کہ دوسروں سے ۔ منہ