کرتا تھا کہ میرے مخالفوں کو یہ عذاب کچھ تھوڑا نہیں کہ وہ اپنی امیدوں کے مخالف عدالت میں میری عزت دیکھ رہے ہیں۔ لیکن خداتعالیٰ کا ارادہ تھا کہ اس سے بھی زیادہ ان کو رسوا کرے۔ سو ایسا اتفاق ہوا کہ سرگروہ مخالفوں کا محمد حسین بٹالوی جس نے آج تک میری جان اور آبرو پر حملے کئے ہیں ڈاکٹر کلارک کی گواہی کے لئے آیا تا عدالت کو یقین دلائے کہ یہ شخص ضرور ایسا ہی ہے جس سے امید ہو سکتی ہے کہ کلارک کے قتل کے لئے عبدالحمید کو بھیجا ہو۔ اور قبل اس کے کہ وہ شہادت دینے کے لئے عدالت کے سامنے آوے ڈاکٹر کلارک نے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر اس کے لئے بہت سفارش کی کہ یہ غیر مقلد مولویوں میں ایک نامی شخص * ہے اس کو کرسی ملنی چاہیے۔ مگر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے اس سفارش کو منظور نہ کیا۔ غالباً محمد حسین کو اس امر کی خبر نہ تھی کہ اس کی کرسی کے لئے پہلے تذکرہ ہو چکا ہے اور کرسی کی درخواست نامنظور ہو چکی ہے اس لئے جب وہ گواہی کے لئے اندر بلایا گیا تو جیسا کہ خشک مُلّاجاہ طلب اور خودنما ہوتے ہیں آتے ہی بڑی شوخی سے اس نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے کرسی طلب کی۔ صاحب موصوف نے فرمایا کہ تجھے عدالت میں کرسی نہیں ملتی اس لئے ہم کرسی نہیں دے سکتے۔ پھر اس نے دوبارہ کرسی کی لالچ میں بے خود ہوکر عرض کی کہ مجھے کرسی ملتی ہے اور میرے باپ رحیم بخش کو بھی کرسی ملتی تھی۔ صاحب بہادر نے فرمایا کہ تو جھوٹا ہے نہ تجھے کرسی ملتی ہے نہ تیرے باپ رحیم بخش کو ملتی تھی ہمارے پاس تمہاری کرسی کے لئے کوئی تحریر نہیں۔ تب محمد حسین نے کہا کہ میرے پاس چٹھیات ہیں لاٹ صاحب مجھے کرسی دیتے ہیں۔ یہ جھوٹی بات سن کر صاحب بہادر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ’’بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہوجا‘‘ اس وقت مجھے بھی محمد حسین پر رحم آیا کیونکہ اس کی موت کی سی حالت ہوگئی تھی۔ اگر بدنؔ کاٹو تو شاید ایک قطرہ لہو
* یہ بات بالکل درست نہیں کہ غیر مقلّد سب محمد حسین کے مقلّد ہیں بلکہ بہت سے لوگ اس کے مخالف ہیں اور اس کے طریقوں سے بیزار۔ منہ