اس کی خونی آنکھ کی طرف توجہ دلائی تھی یہ ممکن ہے کہ اس نے اور وارث الدین اور پریمداس نے فی الحقیقت ایسا یقین کرلیا ہو کہ نوجوان قتل کرنے کے ارادے سے آیا ہے اور اس سے اس امر کو تسلیم کرانے میں ان کو خیال آیا ہو کہ وہ زبردستی صداقت کو نکال رہے ہیں بعد ازاں اپنی غلطی پا کر انہوں نے اس جھوٹے قصہ کو اور تفصیلات سے ارادہ کر لیا ہے کہ اس معاملہ کو برابر چلائیں گے درباب ان ترغیبات کے جو ڈاکٹر کلارک کی موجودگی میں ہوئیں جن کی نسبت وہ بیان کرتاہے کہ نہیں ہو سکتی ہیں یہ ممکن ہے کہ وہ اس وقت وقوع میں آئے ہوں جبکہ اس کی توجہ اور طرف مصروف تھی وہ غالبًا نوجوان کی نگرانی غور سے کررہا تھا جس کو اردگرد سے عبدالرحیم وارث دین اور پریمداس گھیرے ہوئے تھے ۔ اور ان تینوں میں سے میرا خیال ہے کوئی نہ کوئی عبدالحمید کے کانوں میں پھونک دیتا تھا اور اس کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا ۔ خواہ کچھ ہی حقیقت ہو ہمیں بالکل یقین ہے کہ اگر عبدالحمید کو فی الحقیقت عبدالرحیم نے اپنے پہلے بیان کے کرنے میں ورغلایا ۔ ڈاکٹر کلارک کو دورانِ کارروائی میں کامل طور سے دھوکا دیا گیا ہے اور اسے ان کی ان مصنوعی کارروائی سے بالکل اطلاع نہیں ہے ۔ یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ مرزا غلام احمد نے اس امر کو کشادہ پیشانی سے مان لیا ہے اورعدالت میں ڈاکٹر کلارک کو ہر ایک قسم کی شمولیت سے مبرّا قرار دیا ہے ۔ شہادت میں بہت سی تحریری شہادت پیش کی گئی ہے جس میں سے کسی قدر متعلق سمجھی ؔ جاتی اگر اصل بیان جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ثابت ہو جاتا۔ مرزا غلام احمد زور سے اس بات کا انکار کرتا ہے کہ اس نے کبھی ڈاکٹر کلارک کے ضرر دہی کے لئے صریحًا یاکنایتًابھی کوئی پیشگوئی کی ہو وہ اسے ۱۸۹۳ ؁ء کی پیشگوئی میں جو مباحثہ پیشگوئیاں ظہور میں آرہی ہیں اور خوارق لوگوں کوحیرت میں ڈال رہے ہیں ۔ پس کیا ہی وہ انسان نیک قسمت ہے کہ اب ان انوار اور برکات سے فائدہ اٹھائے اور ٹھوکر نہ کھائے !!! اور وہ حوادث ارضی اور سماوی جو مسیح موعود کے ظہور کی علامات ہیں وہ سب میرے وقت میں ظہور پذیر ہوگئی ہیں ۔ مدت ہوئی کہ خسوف کسوف رمضان کے مہینےؔ میں ہو چکا ہے اور ستارہ ذوالسنین بھی نکل چکا اور زلزلے بھی آئے اور مری بھی پڑی اور عیسائی