نورالدین عیسائی امریکن مشن کو کہا تھا کہ وہ قادیان سے آیا ہے اور کہ وہ فی الاصل ہندو تھا اور ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا یہ بیان کرنا نہ تو مرزا صاحب کی سازش ہے اور نہ لیکھرام کے قاتل کے فعل سے مشابہت کیلئے ہے بلکہ بقول اس کے بیان کے اس واسطے ہے کہ مشنریوں سے اس امر واقعہ کو پوشیدہ رکھے کہ وہ گجرات مشن سے نکالا گیا تھا اسی وجہ سے اس نے عبدالحمید کی بجائے جھوٹا نام عبدالمجید بیان کیا ۔ (۶)اگر عبدالحمید کا بیان جو بمقام بیاس اس نے کیا ہے سچا ہوتا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں اس نے بعد تسلیم کر لینے اس ضروری امر کے کہ وہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مارنے کے لئے آیا ہے تفصیلات کے بیان کرنے سے رکا رہا ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ بہت سی تفصیلات اس وقت ظاہر ہوئیں جبکہ وہ نوجوان وارث الدین اور پریمداس اور عبدالرحیم کی حفاظت میں بٹالہ تھا ۔ لہٰذا ہماری یہ رائے ہے کہ عبدالرحیم اور وارث الدین اور پریمداس ہی صرف اس پہلی کہانی کے جوابدہ ہیں اور غالباََ وہی اسؔ کو تمام وقت ورغلاتے رہے ۔ یہ تو طبعی امر ہے کہ اس نوجوان کے آنے پر مشن کے کبوتر خانہ میں بہت چرچا ہوا ہوگا خصوصاََ جبکہ اس نے بیان کیا کہ وہ کسی اور جگہ سے نہیں بلکہ قادیاں ہی سے آیا ہے اور عیسائی ہونا چاہتا ہے ۔ اس کی شکل و شباہت بعض عیسائی ماتحت ملازموں کے پاس اس کی سفارش نہ کرسکی اور اس نے کہہ دیا کہ وہ ہندو تھا ایسا ہی لیکھرام کے قاتل نے کیا تھا انہوں نے دونوں کو اکٹھے کر لیا اور یہ یقینی بات ہے کہ عبدالرحیم سے اکثر اس بارے میں پوچھا گیا کہ اس کے آنے کے کیا وجوہ ہیں ۔ ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ عبدالرحیم کو خود اپنی جان کا خطرہ پڑگیا تھا ۔ یہ یاد رہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے اوّل ہی اوّل ڈاکٹر کلارک کو کہا تھا کہ نوجوان قاتلانہ ارادہ سے آیا ہے اور جس نے نشانوں کا ظاہر ہونا ہے ۔ چنانچہ اب تک جو نشان ظاہر ہوچکے ہیں وہ اس کثرت سے ہیں جن کے قبول کرنے سے کسی منصف کو گریز کی جگہ نہیں ۔ ایک وہ زمانہ تھا جو نادان عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور پیشگوئیوں سے انکار کرتے تھے اور آج وہ زمانہ ہے جو تمام پادری ہمارے سامنے کھڑے نہیںؔ ہوسکتے ۔ آسمان سے نشان ظاہر ہو رہے ہیں