کی طرف مائل ہیں اور نہ وہ ذرا بھی خبطی ہے ۔ فی الواقع اس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنا وقت عیسائیت اور اسلام میں کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر کاٹا ہے ۔ جہاں کہیں اس کو روٹی کپڑے کے ملنے کا یقین ہوا تو وہ اپنی قسمت کو اسی طرح اختیار کرنے کو مستعد ہو گیا ۔ مسٹر گرے بیان کرتا ہے کہ وہ اسے معاََ ایک مفتری معلوم ہوا ۔ جہاں تک کہ وہ اپنے معلومات عیسائیت کے متعلق ظاہر کرتا ہے۔ (۲)یہ تسلیم کیا گیا کہ غلام احمدنے صرف اس کو قریب دو ہفتہ کے دیکھا بڑے سے بڑا وقت یہی ہے وہ ایسے تھوڑے عرصہ میں کافی طور سے ایسی واقفیت پیدا نہیں کر سکتے تھے کہ ایسے نازک کام کیلئے اس پر بھروسہ کرتے ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ اس پر کوئی بڑا ؔ اثر پیدا کر سکے ہوں۔ (۳)جس طریق سے عبدالحمید نے اس کام کو بیان کیا ہے اس کی تدبیر بھی بالکل بھونڈی اور احمقانہ معلوم ہوئی ہے ۔ یہ امر قرین قیاس نہیں ہے کہ عبدالحمید کو اس بات کے کہنے کی تعلیم دی گئی ہو کہ وہ بٹالہ کا ایک ہندو تھا ۔ اور یہ ایسا بیان ہے جس کی تکذیب ڈاکٹر کلارک دو ایک گھنٹے میں کرسکتا ۔ غلام احمد کے پچیس جولائی کے اس اقبال کے بعد کہ وہ نوجوان قادیان میں آیا تھا۔ اگر ڈاکٹر کلارک پر کوئی حادثہ پڑتا تو یہ یقینی امر تھا کہ مرزا صاحب کے خلاف اس کی جان کے بدلے میں کوئی عدالتی کارروائی کی جاتی ۔ اور اس امر کی نسبت خود مرزا صاحب بھی قبل از وقت پیش بینی کر سکتے تھے ۔ یہ بات کسی طرح بھی باور نہیں ہو سکتی کہ مرزاصاحب نے اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں ڈالا ہو۔ (۴)یہ ثابت ہے کہ وہ نوجوان اوّل ڈاکٹر گرے کے پا س امرتسر میں گیا اور اگر وہ اس کو کھانے پینے اور مکان کا وعدہ کرتے تو وہ اس کے پاس رہتا ۔ اگر فی الاصل ڈاکٹرکلارک کے پاس بھیجا گیا تھا تو پھر اس امر کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ مسٹر گرے امریکن مشن کے عیسائی کے پاس وہ کیوں چلا گیا۔ یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ محض اتفاق سے ڈاکٹر کلارک کی طرف رستہ بتلایا گیا۔ (۵) اس نے
اور ہمیشہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جس قدر مسلمانوں کاعلم قرآن شریف کی نسبت ترقی کرے گا اسی قدر ان کا ایمان بھی ترقی پذیر ؔ ہوگا ۔ اور دوسرا طریق جو مسلمانوں کا ایمان قوی کرنے کے لئے مجھے عطا کیا گیا ہے تائیدات سماوی اور دعاؤں کا قبول ہونا اور