جسؔ بات کے متعلق ڈاکٹر کلارک عبدالرحیم کے سامنے اس کے ساتھ ہنسی کرتا رہا بعد ازاں ڈ اکٹر کلارک نے اس کا فوٹو اتروایا ۔ پھر اسی مطلب کے لئے بیاس سے جہاں پر وہ بھیجا گیا تھا امرتسر لایا گیا وہ اس موقعہ پر کتابیں لانے کے لئے ہسپتال میں بھیجا گیا اور عبدالرحیم نے پھر اسے تنگ کرنا شروع کیا اور یاد دلایا کہ اس کا فوٹو لیا جاچکا ہے وہ بھاگ نہیں سکتا اس کی رپورٹ پولیس میں کی جائے گی ورنہ بہتر ہے کہ وہ سچ سچ بیان کردے کہ وہ قتل کرنے کے ارادے پر آیا ہے کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر کلارک و عبدالرحیم و وارث الدین اور پریمداس سب کے سب بیاس میں آئے اس سے تاکید سے پوچھا گیا ۔ عبدالحمید معہ دیگر اشخاص کی جماعت میں فرش کے اوپر بیٹھا ہوا تھا اور ڈاکٹر کلارک کچھ فاصلے پر ایک کرسی پر بیٹھا تھا وہ استقلال سے انکار کرتا رہا کہ وہ کسی بُرے ارادے سے یہاں پر نہیں آیا مگر عبدالرحیم نے اس کے کان میں کہا کہ بہتر ہے کہ وہ تسلیم کرلے کہ وہ ڈاکٹر کلارک کو مرزا صاحب کے کہنے پر ایک پتھر سے مار ڈالنے کے لئے آیا ہے ورنہ اس کے لئے زیادہ خرابی کا باعث ہوگا اور ڈاکٹر کلارک اس بات کا ذمہ وار ہوگاکہ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اُس نے اس کو مان لیا اور اقبال لکھ دیا پہلے اس نے لفظ نقصان لکھا اور عبدالرحیم نے اسے کہا کہ بجائے اس کے لفظ مار ڈالنا درج کرو(الفاظ یہ ہیں ۔ ’’نقصان یعنی مار ڈالنا‘‘)بعد ازاں انہوں نے کہا ہم تمہارا شکریہ ادا کرتے ہیں ہماری مراد پوری ہوگئی ۔ عبدالرحیم و پریمداس اور وارث الدین بعد ازاں مفصل جھوٹی شہادت تیار کرتے رہے جو مجبورًا ان کے کہنے سے اسے عدالت میں دینی پڑی ۔ اس نے یہ بھی بیان کیا کہ اس نے اپنا نام عبدالمجید بجائے عبدالحمید کے بنایا تھا اور نیز اپنا ہندو جنم محض اسی خیال سے بتایا تھا کہ وہ پہلے گجرات مشن سے نکالا جاچکا تھا اور چاہتا تھا کہ امرتسر میں گرفت نہ ہو ۔ اس نے خیال کیا تھا کہ اَغلب ہے کہ مشن کے لوگ اس کی بابت تفتیش کر
کو پایا تھا اور جیسا کہ ضعف ایمان کا خاصہ ہے یہودکی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہوگئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہوگئی تھی ۔ اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے ۔ سو میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو ۔ سو یہی افعال میرے وجود کی علت غائی ہیں مجھے بتلایا گیاہے کہؔ پھر آسمان زمین سے نزدیک ہوگا ۔ بعد اس کے کہ