ظاہر ہوتا تھا کہ وہ فی الحقیقت مصیبت اور تکلیف میں تھا ۔ عبدالحمید کو عدالت نے بیس۲۰ اگست پر دوبارہ طلب کیا اس نے کہا کہ جو بیان وہ اب کرنے لگا ہے صحیح ہے اور اس بیان کے کرنے میں اس کو کسی نے نہیں سکھلایا ۔ یہ بات سچ ہے کہ وہ قادیاں میں گیا تھا اور کل دو ہفتے رہا اس کو بوجہ اس کے مشتبہ چال چلن کے نکال دیاگیا ۔ اس نے مرزا صاحب کو کبھی گالیاں نہیں دیں مگر وہاں سے چلنے سے پیشتر اس کے مریدوں میں سے ایک کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تھا۔ وہ امرتسر چلا گیا۔ اور کسی شخص سے کسی عیسائی واعظ کے مکان کا پتہ دریافت کیا۔ وہ اتفاقًا ایک شخص نورالدین امریکن مشن کے پاس بھیجا گیا۔ اس نے نورالدین کے آگے بیان کیا کہ وہ قادیاں سے آیا ہے ۔ وہ فی الاصل ایک ہندو رلیا رام نامی تھا پھر مسلمان ہو گیا اب وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے ۔ نورالدین نے اسے مسٹر گرے کے پاس بھیجا جس نے صرف اس شرط پر اسے لینا منظور کیا کہ وہ اپنا گذارہ آپ کرے اور کچھ گفتگو کے بعد اس کو نورالدین کے پاس واپس بھیج دیا مگر وہ اپنے ہی خرچ پر عیسائی ہونے پر طیار نہیں تھا نورالدین نے اس کو صلاح دی کہ وہ ڈاکٹر کلارک کے پاس جائے کیونکہ وہ اچھا آدمی ہے (ان میں سے اکثر بیانات کی تائید بعد ازاں ڈاکٹر گرے کی چٹھی کے مضمون اور نورالدین عیسائی کی شہادت سے ہوتی ہے ) وہ ڈاکٹر کلارک کے پاس چلا گیا جس نے اس کو عبدالرحیم کے حوالہ کر دیا ۔ اور شہر کے شفاخانہ میں اسے کام کرنے کو دیا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ عبدالرحیم نے اس پر شبہ کیا کیونکہ اس نے اس سے اصرار اور تاکید سے پوچھاکہ وہ قادیاں سے مشن میں کس واسطے آیاہے اور اس نے ڈاکٹرکلارک کو بھی اس کے سامنے کہا کہ اس کا یقین ہے کہ عبدالحمید کسی شخص کو قتل کرنے آیا ہے
ثابت کر کے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ و مراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہر گز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر ؔ نہیں۔ زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔ حضرت مسیح نے اسی حالت میں یہود