بیٹھیں ۔ اس نے نورالدین مولوی کو قادیان میں اس غرض سے چٹھی لکھی تھی تا ان کو معلوم ہو کہ اس کا ارادہ عیسائی بننے کا ہے۔ نورالدین نےؔ اسے قادیاں تعلیم دی تھی اور اس کی بیماری کا علاج کیاتھا ( یہ تسلیم کیاگیا ہے کہ اس نے بیرنگ چٹھی بھیجی تھی ۔ نور الدین کہتا ہے کہ میں نے ایسی چٹھی کبھی نہیں لی) عبدالرحیم نے اسے بٹالہ میں کہا تھا کہ وہ اس چٹھی بھیجنے کو کسی اور امر کی طرف منسوب کردے یعنی یہ کہ اس نے نورالدین کو اس لئے چٹھی لکھی تھی کہ مرزا صاحب کو اس کا پتہ معلوم ہوجائے ۔ عبدالرحیم نے بٹالہ میں اسے یہ بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے کہ اس نے مرزاصاحب کو جانے سے پہلے گالیاں دی تھیں حالانکہ اس نے کوئی گالی نہیں دی تھی۔ امرتسرمیں اس کو کہا گیا کہ تو یہ کہہ دیناکہ میرا دل اس واسطے بدل گیا کہ میں نے ڈاکٹر کلارک کو اچھا آدمی پایا ۔ ۱۳؍ تاریخ کو بوقت جرح عبدالحمید نے پہلی ہی بار مرزا غلام احمد صاحب کے ایک مریدقطب دین نام کا ذکر کیا جو امرتسر میں رہتا ہے اور کہاکہ میں سب سے پہلے قادیاں سے امرتسر میں پہنچتے ہی اسی کے پاس گیا تھا اور قطب الدین نے ایک پتھر وزنی تیس سیر جس کے ساتھ ڈاکٹر کلارک کو مار ڈالنا تھا مہیا کرنے کا ذمہ لیا تھا اور بعد اس کام کے ختم ہونے کے اس نے قطب الدین ہی کے پاس پناہ لینی تھی ۔ عبدالحمید نے بیان کیا کہ یہ تمام تفصیل وارث الدین نے بٹالہ میں بتائی تھی اور اس نے قطب الدین کواپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا ۔ عبدالحمید نے یہ بھی بیان کیا کہ ڈاکٹر کلارک کے وکیل رام بھج دت نامی نے اس سے کئی دفعہ بٹالہ میں سوالات کئے اور اس کے ایک ریمارک سے ہی قطب الدین کے ذکر کرنے کی ضرورت پڑی ۔ وکیل نے اسے کہا تھا کہ تو پرندہ نہیں ہے تونے کس طرح امرتسر سے بھاگ کر جانے کا ارادہ کیا تھا تمہارا ضرور اس جرم میں کوئی ساتھی ہوگا اور وہ کون ہے ۔ عبدالحمید نے اس امر سے انکار کیا اس کے بعد وارث الدین بہت دور ہو گیا تھا ۔ سو میں ان ہی باتوں کا مجدّد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ اور منجملہ ان امور کے جو میرے مامور ہونے کی علّتِ غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قوی کرنا ہے اور ان کو خدا اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشنا۔ اور یہ طریق ایمان کی تقویت کا دو طور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے ۔ اوّل قرآن شریف کی