لہٰذا میں نے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہا کہ آپ اس کو اپنی ذمہ واری میں لیں اور آزادانہ طور سے اس سے پوچھیں ۱۴ ؍اگست کو مسٹر لیمارچند ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کو بھیجا کہ وہ عبدالحمید کو سی ایم ایس کوارٹر انارکلی میں جا کر حفاظت کی جگہ سے یہاں لے آؤ۔ اس کو محمد بخش سیدھا مسٹر لیمارچنڈ کے پاس گاڑی میں لے گیا۔ اوّل الذکر شخص اس وقت پہلے سے کسی کام میں مصروف تھا اور کچھ عرصہ کے لئے اس کو جلال الدین انسپکٹر کے سپرد کیا۔ مؤخر الذکر نے کھلے میدان میں محمد بخش و دیگر اشخاص کی موجودگی میں اس سے پوچھا کچھ دیر کے بعد انسپکٹر مذکور نے مسٹر لیمار چنڈ کے پاس آکر بیان کیا کہ وہ لڑکا اپنے سابقہ بیان پر قائم ہے اور کچھ ایزاد نہیں کرتا اور وہ انارکلی واپس جانے کو چاہتا ہے ۔ انسپکٹر مذکور نے مسٹر لیمارچنڈکو اطلاع دی کہ اس کو واپس بھیج دیں ۔موخرالذکر نے اس امر کو اپنا فرض سمجھاکہ جو کچھ نوجوان بیان کرے لکھ لیا جائے اس لئے اس کو بلا بھیجا ۔ انہوں نے بیان کے دو تختے کم وبیش اسی شہادت کے مطابق لکھے جو سابق میں عدالت کے سامنے دی گئی تھی کہ ناگہاں نوجوان زارزار رونے لگا اور مسٹر لیمارچنڈکے پاؤں پر گر پڑا اورکہا کہ میں اس مقدمہ میں عبدالرحیم اور وارث الدین اور پریمداس ملازمان مشن کی سازش سے جن کی تحویل میں وہ رہا برابر جھوٹ بولتا رہا ۔وہ کئی روز تک پہرےؔ میں رکھا گیا ۔ وہ سخت مصیبت میں گرفتار رہا اور فی الحقیقت اس نے خود کشی کا ارادہ کر لیا تھا ۔ لہٰذا اس نے مسٹر لیمار چنڈ کے سامنے پورا پورا بیان کر دیا۔ لیمار چنڈ نے شہادت میں بیان کیا کہ اس کے خیال میں جس طرز سے یہ دوسرا بیان ہوا ہے اس سے یہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ اس نے نوجوان کو نہ تو دھمکایا اور نہ اسے کوئی معافی کا وعدہ کیا ۔ نوجوان کی صورتِ حال اور وضع قطع سے
میں مقید تھے اور ایک ایسے فرضی دجال اور فرضی مسیح کے منتظر تھے جن کے ماننے سے نئے سرے اس شرک کی بنیاد پڑتی ہے جس کی قرآن شریف بیخ کنی کر چکا ہے اور مسئلہ ختم نبوت بھی ہاتھ سے جاتاہے سو خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا تا میں اس خطرناک حالت کی اصلاح کروں اور لوگوں کو خالص توحید کی راہ بتاؤں چنانچہ میں نے سب کچھ بتاؔ دیا ۔ اور نیز میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر