ضلع امرتسر کو معلوم ہوا کہ انہوں نے غیر ضلع میں وارنٹ روانہ کرنے میں غلطی کی اور وہ اس بات کے مجاز نہ تھے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے غیر ضلع میں وارنٹ جاری کیا جائے۔ اس لئے انہوں نے ضلع گورداسپورہ میں تار دی کہ وارنٹ کی تعمیل روک دی جائے۔ اور اس جگہ خدا کا کام یہ کہ ضلع گورداسپورہ کے افسر خود تعجب میں تھے کہ کب وارنٹ آیا کہ تا اس کی تعمیل روک دی جائے۔ آخر وہ تار داخل دفتر کی گئی۔ اور پھر بعد اس کے مثل مقدمہ منتقل ہوکر صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپورہ کے پاس آگئی۔ پھر بعد اس کے مجھے اس بات پر اطلاع نہیں کہ کیونکر بجائے وارنٹ کے صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ کی عدالت سے سمن جاری ہوا۔ ہاں میں نے سنا ہے کہ کلارک نے معہ اپنے وکیل کے اس پر بحث کی تھی کہ ضرور وارنٹ جاری ہو جیسا کہ امرتسر سے جاری ہوا۔ لیکن خداتعالیٰ نے جو دلوں کا مالک ہے اس نے مثل کے پہنچتے ہی صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپورہ کے دل پر یہ بات جمادی کہ مقدمہ مشتبہ ہے اور وارنٹ کے لائق نہیں اس لئے انہوں نے میرے نام سمن جاری کیا۔ مگر شیخ محمد حسین صاحب کو ان باتوں کی کچھ بھی خبر نہ تھی۔ وہ اس خیال پر کہ عنقریب یہ عاجز صاحب ضلع کی کچہری میں گرفتار ہوکر آئے گا بڑے ناز سے کچہری میں تشریف لائے اور صیّاد کی طرح اِدھر اُدھر دیکھتے تھے کہ تا میری گرفتاری اور ہتھکڑی کا نظارہ دیکھیں اور اپنے یاروں کو دکھائیں اتنے میں مَیں قریب نو بجے کے بٹالہ میں جہاں صاحب ڈپٹی کمشنر بہ تقریب دورہ فروکش تھے پہنچ گیا۔ اور جب میں صاحب ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں گیا تو پہلے سے میرے لئے کرسی بچھائی گئی تھی۔ جب میں حاضر ہوا تو صاحب ضلع نے بڑے لُطف اورؔ مہربانی سے اشارہ کیا کہ تا میں کرسی پر بیٹھ جاؤں۔ تب محمد حسین بٹالوی اور کئی سو آدمی جو میری گرفتاری اور ذلت کے دیکھنے کے لئے آئے تھے ایک حیرت کی حالت میں رہ گئے کہ یہ دن تو اس شخص کی ذلت اور بے عزتی کا سمجھا گیا تھا مگر یہ تو بڑی شفقت اور مہربانی کے ساتھ کرسی پر بٹھایا گیا۔ میں اس وقت خیال