سے جو ایک رسالہ مصنفہ مرزا صاحب ہے جس میں مرزا صاحب نے تین مختلف مذاہب کے تین نامی آدمیوں عبداللہ آتھم احمد بیگ اور لیکھرام کی موت کی نسبت پیشگوئی کی تھی پیش کیا ۔ آتھم اور احمد بیگ کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی لیکن لیکھرام حال ہی میں میعاد مقررہ کے اندر بُری طرح سے کسی نامعلوم شخص کے ہاتھ سے قتل کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر کلارک نے بیان کیا کہ غلام احمد کی یہ پالیسی ہے کہ اپنے مخالفوں کے دلوں میں ان کی ہلاکت کی پیشگوئی کر کے خوف بٹھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس کا سلوک اس کے یعنی ڈاکٹر کلارک کی نسبت مابعد مباحثہ لگاتار کینہ ور رہا ہے۔ زیادہ تر خاص کر کے آتھم کی وفات کے روز سے ڈاکٹر کلارک بجائے اس کے عیسائی سرگروہ سمجھا ؔ جاتا ہے۔ ایک انتخاب اس رسالہ سے پیش کیا گیا ہے جس کو انجام آتھم کہتے ہیں اورجس کو غلام احمد نے شائع کیا ہے جس میں بموجب تصریح ڈاکٹر کلارک یہ بیان ہے کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا اور
ابدی ؔ *** کو ماننا انہیں لازم آگیا ۔ اور یہ کہنا کہ ابدی *** یسوع پر نہیں پڑ سکتی۔ یہ ایک نیا دعویٰ ہے جس کا ثبوت اب تک عیسائیوں نے توریت کے رو سے نہیں دیا ۔ در حقیقت عیسائی لوگ بڑی مصیبت میں ہیں ۔ کیونکہ اگر فرض محال کے طور پربلا دلیل یہ بھی مان لیا جائے کہ اوروں پر تو ابدی *** صلیب سے پڑتی ہے مگر یسوع پر صرف تین دن تک پڑی تو اس سے بھی عیسائی جھوٹے ٹھہرتے ہیں
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۹۲ سطر ۱۴۔ ۱۵میں سزا کی تشریح یہ لکھی ہے ۔’’ دیندار لوگ مرتے وقت ہی آرام کی جگہ میں داخل ہوتے ہیں اور بے دین اسی وقت دوزخ میں گرتے ہیں ‘‘ اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع نے سب گناہ اپنے پرلے کر ضرور جہنم کی سزا اُٹھائی ۔ اور رسالہ معمودیۃ البالغین کے صفحہ ۲۹۱ سطر ۱و۲ میں یسوع کی نسبت عیسائیوں کا عقیدہ یہ لکھا ہے ’’ صُلِب ومات و قُبِر و نزل الی الجحیم‘‘* یعنی یسوع مصلوب ہوا اور مر گیا اور قبر میں داخل ہوا ا ور جہنم میں اترا ۔ اب ان تمام عبارتوں سے صاف طور پرظاہر ہوتا ہے کہ مسیح جہنم میں گیا اور اس نے ساری سزائیں اٹھائیں ۔ عیسائی اس بات کے بھی قائل
*حال کی بعض عیسائی کتابوں میں بجائے جہنم ہادس لکھا ہے جو ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنے ہاویہ ہے جس کو عبرانی میں ہاوث کہتے ہیں ۔ درحقیقت یہ دونوں لفظ ہادس اور ہاوث عربی کے لفظ ہاویہ سے لئے گئے ہیں ۔ منہ