طرفؔ سے کارروائی کی تھی ۔ مباحثہ کے اختتام پر مرزا غلام احمد نے پیشگوئی کی کہ عیسائی جو مباحثہ میں شامل ہیں پندرہ مہینے کے اندر مرجائیں گے ۔ اور ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ اس عرصہ کے دوران میں چار صاف حملے آتھم کی جان پر کئے گئے پیشگوئی بالآخر پوری نہیں ہوئی* اور ڈاکٹر کلارک نے غلا م احمد کو پبلک میں جھوٹا پیغمبر ظاہر کیا۔ مباحثہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب کے دو مرید محمد یوسف خان جو مباحثہ میں اس کا سکریٹری تھا اور محمد سعید جو بروئے نکاح رشتہ دار تھا عیسائی ہو گئے اور یہ امر بمعہ اس نقصان شعبدہ بازی کے جو اس کی پیشگوئیوں کے خطا جانے کے پیدا ہوا مرزا صاحب کے لیے باعث رنج عظیم ہوا ۔ ڈاکٹر کلارک نے ایک انتخاب شہادۃ القرآن نہیں ؔ رہی اور اقرار صلیب کے بعد یہ عذرکہ فلاں عورت یا فلاں مرد نے ان کو آسمان پرچڑھتے دیکھا تھا نہایت نکمااور فضول اور لغو عذر ہے ۔ کاش یہ چڑھنا یہود کے علماء اور فقیہوں کو دکھلایا ہوتا اور اگر وہ دیکھتے بھی تو اس کا یہی نتیجہ ہوتاکہ وہ سمجھ لیتے کہ توریت منجانب اللہ نہیں ہے مگر اب تو عیسائیوں نے خود یہود کا ہاتھ بلند کر دیا کیونکہ جب یسوع کو مصلوب مان لیا تو اب کہ یہ اندھیرے کے مکان عیسائیوں کے نزدیک جہنم ہے ۔ پھر کتاب جامعۃ الفرائض مطبوعہ امریکن مشن پریس لودھیانہ ۱۸۶۲ء ؁ صفحہ ۶۳ سطر ۱۶۔۱۷ میں مسیح کی نسبت یہ عبارت ہے ۔ ’’ کیونکہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کو اس کا خون صاف نہ کرسکے اور کوئی گنا ہ ایسا نہیں جس کا اس نے بدلہ نہ دیا ہو اور کوئی سزاءِ گناہ ایسی نہیں جو اس نے نہ اٹھائی ہو ۔ ‘‘ اور ظاہر ہے کہ گنہگاروں کی خاص سزا جہنم ہے جس کا اٹھانا پوری سزا اٹھانے کیلئے ضروری ہے۔ *ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک کا یہ بیان صحیح نہیں ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور ہم بارہا بیان کر چکے ہیں کہ پیشگوئی دو پہلو رکھتی تھی ۔ ایک یہ کہ آتھم میعاد کے اندر عیسائیت پر استقلال دکھلا کر یعنی پیشگوئی سے خوف زدہ نہ ہونے کی حالت میں ضرور پندرہ مہینے تک فوت ہو جائے گا۔ دوسرے یہ کہ خوف زدہ ہونے کی حالت میں جبکہ پیشگوئی کی عظمت سے خوف ہو ہر گز میعاد کے اندر فوت نہ ہوگا۔ سوچونکہ آتھم ڈرا اس لئے دوسرے پہلو کے موافق پیشگوئی پوری ہوگئی اور پھر اخفائے شہادت سے دوسرے الہام کے موافق فوت بھی ہو گیا اور ہم لکھ چکے ہیں کہ عیسائی فریق کا سرگروہ صرف آتھم ٹھہرایا گیا تھا۔ اور یہ امر بھی صحیح نہیں کہ مباحثہ کے اثر سے دو مرید ہمارے عیسائی ہو گئے تھے بلکہ یہ دونوں سخت نادان دنیا پرست جاہل تھے جن کو ہم نے اپنی جماعت سے نکال دیا تھا۔ یہ بھی کس قدر جھوٹ ہے کہ احمد بیگ کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ احمد بیگ پیشگوئی کی میعاد میں فوت ہو گیا اور بڑی صفائی سے پیشگوئی پوری ہوئی ۔ منہ