یہ میعاد ۱۴؍ ستمبر ۹۷ء کو ختم ہوگی ۔ ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ ۱۸۹۴ ء سے اس نے غلام احمد سے خط و کتابت بند کردی ہے اور یہ کہ اکثر رسالجات جن میں اس کا ذکر ہوتا ہے قادیاں سے اس کے پاس آتے رہے ہیں ۔ لیکن تھوڑے عرصہ سے وہ لگاتار سلسلہ بند ہو گیا ہے ۔ جس سے وہ استدلال کرتا ہے کہ تا وہ حفاظت سے بے فکر ہو جائے ڈاکٹر کلارک نے پیشگوئیوں کی ایک فہرست پیش کی ہے جو وقتًا فوقتًامنجانب مرزا غلام احمد شائع ہوتی رہیں جن میں بہت سے اشخاص کی نسبت موت اور نقصان کی پیش از وقت اطلاع دی گئی ہے ۔ ۱۶ ؍جولائی ۹۷ کو ایک اٹھارہ سالہ نوجوان ڈاکٹر کلارک کے پاس امرتسر میں آیا اور کہا کہ اس کا نام عبدالمجید ہے اور وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے وہ جنم سے برہمن تھا اس کا نام رلیا رام ولد رام چند سکنہ کھجوری دروازہ شہر بٹالہ ہے ۔ وہ غلام احمد کے ہاتھ سے مذہب اسلام میں داخل ہوا ۔ جب وہ پندرہ برس کا تھا ۔ وہ سات برس تک قادیاں میں رہا اور غلام احمد کو برا آدمی سمجھ کر چلا ؔ آیا اور اب وہ عیسائی مذہب میں اصطباغ لینا چاہتا ہے ۔ ڈاکٹر کلارک کو شبہات فوراََ پیدا ہوئے اس کو تعجب ہوا کہ اس قصہ کی مشابہت اس قصے سے ہے جو لیکھرام کے قاتل نے بیان کیا تھا۔ اس نے نوجوان
کیونکہؔ لغت کے رو سے خود *** ایک ایسا لفظ ہے جو دل سے متعلق ہے اور لعین اس حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے کہ جب شیطان کی تمام خصلتیں اس کے اندر آجاتی ہیں اور وہ مردود اور دشمن خدا ہو جاتا ہے تو کیا ایک دم کے لئے بھی یہ حالتیں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لئے تجویز کرسکتے ہیں ۔
ہیں کہ صلیب کی سزا تو صرف چند گھنٹے تھی لیکن *** موت کے بعد تین دن تک رہی ۔ اب ظاہر ہے کہ *** کے ایام میں کسی قسم کا عذاب یسوع کے شامل حال ہوگا اور وہ عذاب بجزدوزخ کے اور کوئی نہیں اور نیز جبکہ یسوع کا فرض تھا کہ وہ آپ سزا اٹھا کر خدا تعالیٰ کا عدل پورا کرے تو پھر اگر صرف دنیا کا چند گھنٹوں کا دکھ اس نے دیکھا اور جہنم میں نہیں گیا تو اس صورت میں خدا کا عدل کیونکر پورا ہوگا۔ حالانکہ انجیل متی کی تفسیر میں پادری عماد الدین لکھتے ہیں کہ ’’ خدا مسیح کے دل کے سامنے سے ہٹ گیا تا کہ اپنی عدالت خوب پوری کرے ‘‘ ۔ یعنی بباعث *** یسوع کا دل تاریک ہو گیا۔ اور تفسیر کتاب اعمال ملقب بہ تذکرۃ الابرار مطبوعہ ۱۸۷۹ء امریکن مشن پریس لودھیانہ میں مسیح کی نسبت یہ عبارت ہے ’’ مسیح خداوند کا شکر ہو کہ اس نے شریعت کی