روبروئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر بدیں مضمون دی گئی کہ ایک نوجوان بعمر اٹھارہ سال عبدالحمید نامی نے بیان کیا ہے کہ اس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کے (ڈاکٹر مارٹن کلارک) قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے غلام احمد کی گرفتاری کے لئے ایک وارنٹ جاری کیا اور نوٹس دیا کہ وہ ان کو وجہ بتلائیں کہ کیوں اس سے حفظ امن کے لئے مچلکہ نہ لیا جائے مگر بعد ازاں معلوم کر کے کہ اس کو اختیار قانونی حاصل نہیں ہے اس نے مثل کو ضلع ھٰذا میں بھیج دیا کیونکہ غلام احمد کی سکونت اس ضلع میں واقع ہے۔ بادی النظر میں یہ مقدمہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات کی جائے اور پھر شیشن سپرد کیا جائے ۔ مگر ڈاکٹر کلارک بوجہ بیماری پہاڑ پر جانا چاہتا تھا اور اس کو ڈر تھا کہ شاید اس کا سب سے بڑا گواہ ورغلایا جائے ۔ اسی واسطے اس نے یہ خواہش ظاہر کی کہ جہاں تک جلد ممکن ہو عدالتی تحقیقات کی جائے ۔ یہ معلوم ہوا کہ بطور تمہیدی کارروائی تحقیقات زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ مذکورہ جو ان حالات کی رو سے قائم ہوا اور جو اصل حقیقت پر پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے کی جائے لہٰذا جدید نوٹس غلام احمد کے نام جاری کیا گیا تا کہ وہ آن کر وجہ بیان کرے کہ کیوں اس سے ضمانت نہ لی جائے۔شہادت ڈاکٹر مارٹن کلارک سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۸۹۳ ء میں اس نے مابین عبداللہ آتھم عیسائی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مباحثہ کرایا تھا جس میں ڈاکٹر مارٹن کلارک موجود تھا اور دو موقعوں پر خود ڈاکٹر کلارک نے عیسائیوں کی
وہ مقام دکھلا ویں ۔ ہم محض ثالث کے طورپر یہ گواہی دیتے ہیں کہ اگر حضرت یسوع درحقیقت مصلوب ہوگئے ہیں تو اس صورت میں یہود اُن کو *** ابدی اور جہنمی ہونے کا مصداق ٹھہرانے میں بلا شبہ حق پر ہیں* اور توریت میں ایک حرف بھی ایسا نہیں ہے جو تین دن کی *** کے بارے میں عیسائیوں کی تائید کر سکے ۔ صلیب کے قبول کرنے کے بعد عیسائیوں کو کوئی بھی گریز کی جگہ
*یسوع کا جہنم میں جانا ان کتابوں سے ثابت ہوتا ہے ۔ انجیل متی کی تفسیرخزانۃ الاسرار تالیف پادری عماد الدین صفحہ ۴۹۸ سطر بیس ۲۰ ’’ خدا کا ساراغضب جو گناہ کے سبب سے ہے اس پر آگیا‘‘۔ اب ظاہر ہے کہ یہ غضب وہی چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جہنم کہتے ہیں ۔ پھر اسی خزانۃ الاسرار کی بائیسویں سطر میں مسیح کی نسبت زبور ۸۸۔۶ سے یہ پیشگوئی نقل کی ہے۔
’’ تو نے مجھے گڑھے کے اسفل میں ڈالا اندھیرے مکانوں میں گہراؤوں میں ۔ ‘‘ اب ظاہر ہے