نقل چٹھی مورخہ ۱۸؍ اگست ۹۷ء منجاب پادری ایچ۔ جی۔ گرے امرتسر بنام ڈبلیو لیمار چنڈ صاحب بہادر ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور۔ قیصرہ ہند بنام۔ مرزا غلام احمد قادیاں
بعدالت کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ
’’ میں ڈرتا ہوں کہ میں اس معاملہ پر کوئی روشنی نہیں ڈال سکتا۔ عبد الحمید یا جو کچھ اس کا نام ہے میرے پاس آیا تھا اور اس نے بیان کیا کہ وہ اصلی ہندو ہے اور کچھ دنوں مرزاء قادیانی کا مرید رہا ہے لیکن اب وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ مجھے وہ کوئی سچا متلاشی نہ معلوم ہوا بلکہ میں نے ایک معمولی سمجھا۔ میں نے اسے کہا کہ میں اسے تعلیم دوں گااگر وہ روزانہ یا ہفتہ میں ایک دو دفعہ میرے پاس آنا چاہے۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اس کا گذارہ کیسے ہو گا۔ میں نے جواب دیا کہ اس امر میں مَیں اسے ایک پیسہ بھی گذارہ کے لئے نہ دوں گا۔ جو کچھ میرے دل پر اس کی طرف سے خیال پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ وہ ایک نکما اور مفتری آدمی ہے۔ جو مجھ سے روپیہ یا خوراک کا گذارہ چاہتا ہے۔ سو میں اس امر سے حیران نہ ہوا کہ وہ پھر کبھی میرے پاس نہیں آیا۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا وہ میرے پاس کوئی چٹھی لایا یا نہیں۔ لیکن نور دین نے اتفاقیہ مجھ سے ذکر کیا تھا کہ وہ نوجوان اس کے پاس بھی گیا تھا۔‘‘*
نقل بیان نور الدین عیسائی گواہ استغاثہ مشمولہ مثل عدالت فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی
کمشنر بہادر ضلع گورداسپور۔ واقعہ ۲۲؍ اگست ۱۸۹۷ء
سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک مستغیث بنام مرزا غلام احمد قادیانی
استغاثہ زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
بیان نور الدین عیسائی گواہ استغاثہ بہ حلف ۔ ۲۳؍ اگست ۱۸۹۷ء
فیصلہ
۲۳؍ اگست ۹۷ء
مرجوعہ
۹؍ اگست ۹۷ء
میں امرتسر میں مشن کی طرف سے واعظ ہوں اور ہال بازار میں میرا مقام صدر ہے۔ عبدالحمید میرے پاس امرتسر آیا تھا۔ اپنا پہلا نام رلیا رام بتلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اب میں مسلمان ہوں۔ اور عبدالحمید یا عبدالمجید نام ظاہر کیا تھا۔ کہتا تھا کہ پہلے میں ہندو تھا۔ میں نے پادری گرے صاحب کے پاس اس کو
*پادری ایچ۔ جی۔ گرے اور نور دین عیسائی کا بیان صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ عبد الحمید محض اپنے گذارہ کے لئے پادریوں کے دروازہ پر گیا تھا۔ پادری صاحب کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر پادری گرے صاحب اس کو گذارہ دیتے تو وہ اسی جگہ ٹھہر جاتا ڈاکٹر کلارک کے پاس نہ جاتا۔ منہ