شخصؔ نے ذکر کیا تھا کہ یہ شخص عیسائی ہو گیا تھا اب یہاں آیا ہے ۔ میرے ساتھ اس کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی ۔ مجھے نہیں معلوم کس نے اس کو مزدوری وغیرہ کا کوئی کام دیا تھا ۔ میں نے کوئی کام نہیں دیا تھا ۔ میں نے کوئی پیشگوئی نہ اشارتاََ اور نہ کنایتاََڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت کی۔ میں نے سنا تھا کہ عبدالحمید اچھے چال چلن کا لڑکا نہیں ہے ۔ اس لئے میں نے گھر سے ایک رقعہ لکھ کر بھیج دیا تھا کہ اس کو نکال دینا چاہیئے ۔مجھے پھر خبر نہیں کہ وہ کہاں چلا گیا ۔ میں نے ایک پیسہ تک اس کو جاتے ہوئے نہیں دیا ۔نہ امرتسر بھیجا ۔ جھوٹ کی بیخ کنی سے مراد ہے کہ جھوٹ ضائع ہوجاوے گا ۔ ڈاکٹر کلارک صاحب کی طرف اشارہ نہیں ہے ۔ جب تک کوئی شخص رضامندی ظاہر نہ کرے پیشگوئی نہیں کی جاتی ۔ خط مورخہ ۵ ؍مئی ۹۳ء ؁ دستخطی عبداللہ آتھم پیش کرتا ہوں جس میں وہ نشان معجزہ یا دلیل قاطع مانگتے ہیں ۔ (حرف Y)حرف Oمیں دوبارہ روشنی ڈالنے سے مراد ہے کہ پیشگوئی کے پورا ہونے نے یقین کو زیادہ کیا ۔ دستخط مرزا غلام احمد سنایا گیا سب بیان صحیح اور درست مندرج ہے درست تسلیم ہوا ۔ دستخط حاکم ضمیمہ کتاب البریّہ* ذیل کی دو شہادتیں جو بروز فیصلہ مقدمہ شامل مثل ہوئیں وہ سہوًا درج کتابنہیں ہوئیں اب ذیل میں لکھی جاتی ہیں اس کو اخیر حکم سے پہلے شامل کتاب سمجھنا چاہیئے تو اؔ ب بلاشبہ توریت اس کو آسمان پر چڑھنے سے روکتی ہے ورنہ توریت خود باطل ہوتی ہے ۔یہ کیونکر مان لیا جائے کہ توریت کے *** کا حکم اوروں کے لئے ابدی اور یسوع کے لئے صرف تین دن تک محدود تھا ۔ توریت میں کوئی ایسی تخصیص نہیں ۔ بلکہ اس *** سے ابدی *** مراد ہے کہ جو کبھی بھی گلے سے نہیں اترے گی ۔ اگر موسےٰ کی کتاب توریت میں کہیں تین دن کا ذکر بھی ہے تو حضرات عیسائیاں ہم کو * ایڈیشن اوّل میں یہ ضمیمہ کتاب کے شروع میں شامل کیا گیاہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کی تعمیل میں یہاں لایا گیا ہے ۔ناشر