نقلؔ بیان مرزا غلام احمد قادیانی بلا حلف بمقدمہ فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور
سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ضابطہ فوجداری
۲۰؍ اگست ۹۷ء بیان مرزا غلام احمد قادیانی بلا حلف
جب مباحثہ ۹۳ء کا ختم ہوا آخر پر ہم نے حسب درخواست عبداللہ آتھم کے اس کی نسبت پیشگوئی کی تھی ۔ ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت یہ پیشگوئی نہ تھی اور نہ وہ اس پیشگوئی میں شامل تھا ۔ فریق سے مراد آتھم ہی ہے ۔ جیساکہ عبارت سے ظاہر ہے ۔ فریق اور شخص کے ایک ہی معنے ہیں اور اس میں ہم بھی شامل ہیں۔ کوئی حملہ آتھم کے اوپر نہیں کیا گیا تھا اگر ہوتا تو وہ خود کوئی استغاثہ کرتا یا رپورٹ دیتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا ۔ پندرہ ماہ کے عرصہ کے بعد عبداللہ آتھم فوت ہوئے تھے ۔ پندرہ ماہ گذرنے کے بعد عبد اللہ آتھم سے ہم نے سنا تھا کہ اپنے دوستوں کے پاس بیان کیا تھا کہ اس پر تین بار حملے ہوئے ۔ اس پر بھی ہم نے اس کو متنبہ کیا کہ میں ایسا سنتا ہوں کہ آپ میرے پر الزام لگاتے ہیں کہ میرے پر تین حملے ہوئے ۔ اگر یہ صحیح ہے تو چاہیئے کہ آپ قسم کھائیں یا عدالت میں نالش کریں یا خانگی طور پر باضابطہ اس کا ثبوت دیں ۔ مگر کوئی جواب مجھے نہیں ملا ۔ اس سے پہلے اس نے کبھی بیان نہیں کیا تھا نہ کسی اخبار میں نہ اور طرح پر۔ میں نے کوئی پیشگوئی سانپ کی بابت نہیں کی تھی ۔ عبدالحمید کو ایک دفعہ میں نے مسجد میں دیکھا تھا کسی
اب ؔ خلاصہ کلام یہ کہ مسیح کا مصلوب ہونا توریت کے رو سے صرف اس بات کا مانع تھا کہ اور تمام صلحا اور راستبازوں کی طرح اس کا رفع روحانی ہو ۔ اوریہی بار بار یہود کا اعتراض بھی تھا۔ پس نصاریٰ کا اس پہلو کو اختیار کرلینا کہ حضرت مسیح در حقیقت مصلوب ہو گئے ہیں اور پھر یہ بات بنانا کہ گویا وہ بعض عیسائیوں کے روبروئے صلیب سے نجات پا کر تین۳ دن بعد مع جسم آسمان پر چلے گئے تھے یہ نہایت لغو اور بیہودہ عذر ہے ۔ کیونکہ جبکہ انہوں نے توریت کے موافق اس بات کو مان لیا کہ یسوع مصلوب ہو کر درحقیقت مورد *** ہو گیا تھا۔