میں لوگوں کو دکھلاوے اور وہ غیبی تائیدیں ظاہر کرے کہ جو راستبازوں کے شامل حال ہوتی ہیں۔ نادان کہتا ہے کہ یہ سب بے ہودہ باتیں ہیں کیونکہ احمق نہیں جانتا کہ خدا کن قوتوں کا مالک ہے اور نادان اس سے بے خبر ہے کہ اس اعلیٰ طاقت میں کیا کیا عجیب قدرتیں ہیں اور اسباب پیدا کرنے کی کیا کیا عمیق راہیں ہیں۔ افسوس ان لوگوں پر جو نشانوں کے بعد بھی اس کو نہیں پہچانتے۔
یہ مقدمہ جو میرے پر بنایا گیا تھا اس میں محمد حسین بٹالوی بڑا حریص تھا کہ کسی طرح عیسائیوں کو کامیابی ہو۔ وہ خیال کرتا تھا کہ مجھے شکار مارنے کے لئے ایک موقعہ ملا ہے۔ اور اس کو یقین تھا کہ یہ وار اس کا ہرگز خالی نہ جائے گا۔ اسی وجہ سے وہ کلارک کا گواہ بن کر آیا تھا اور اس غلط خبر سے وہ بہت ہی خوش تھا کہ اس عاجز پر وارنٹ گرفتاری جاری ہوگیا ہے۔ مگر دراصل بات یہ تھی کہ امرتسر کے مجسٹریٹ نے درحقیقت یکم اگست ۱۸۹۷ ء کو میری گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کر دیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کا اس مقدمہ میں اوّل کرشمۂ قدرت یہی ہے کہ باوجود کئی دن گذر چکنے کے وہ وارنٹ گورداسپورہ میں پہنچ نہ سکا معلوم نہیں کہ کہاں غائب ہوگیا۔ بقول وارث دین جو اس مقدمہ کی سازش میں شریک ہے عیسائی اس بات کے ہر روز منتظر تھے کہ کب یہ شخص گرفتار ہوکر امرتسر میں آتا ہے اور بعض مخالف مولوی اور ان کی جماعت کے لوگ ہر روز اسٹیشن امرتسر پر جاتے تھے کہ تا مجھے اس حالت میں دیکھیں کہ ہتھکڑی ہاتھ میں اورؔ پولیس کی حراست میں ریل سے اترا ہوں۔ آخر جب وارنٹ کی تعمیل میں دیر لگی تو یہ لوگ نہایت تعجب میں پڑے کہ یہ کیا بھید ہے کہ باوجود وارنٹ جاری ہو جانے کے اور کئی دن اس پر گذرنے کے یہ شخص اب تک گرفتار ہوکر امرتسر میں نہیں آیا اور درحقیقت تعجب کی جگہ تھی کہ باوجودیکہ وارنٹ کا حکم یکم اگست کو جاری ہوگیا تھا پھر بھی ۷؍ اگست تک اس کی تعمیل کا عوام کو کچھ پتہ نہ لگا۔ یہ ایسا امر ہے کہ سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ غرض بعد اس کے صاحب ڈپٹی کمشنر