نے ؔ کہا تھا کہ ضرور اس کو بھی سزا ملنی چاہیئے یعنی سزائے موت ۔ اشتہار مورخہ۵؍ اکتوبر ۹۴ء حرف Wگواہ نے پیش کیا نیز اشتہار مورخہ ۵؍ ستمبر ۹۴ء حرف Xگواہ نے پیش کیا ۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب سے مرزا صاحب سخت ناراض تھے ۔ جولائی ۹۳ء میں مرزا صاحب نے ایک روز بہت لوگوں کے روبروئے اپنی خواب بیان کی کہ ایک سانپ نے مجھے دہنے ہاتھ پر کاٹا اور میں اپنے والد کے پاس گیا ۔ میرے والد نے اس زخم کو استرے سے کاٹنا شروع کر دیا اور سینہ تک کاٹ دیا ۔ اور اس سے مرزا صاحب نے پیشگوئی کی کہ آتھم کو سانپ کاٹے گا۔ اس کی بابت سیالکوٹ وغیرہ میں لوگوں کو بذریعہ خط اطلاع دی گئی تھی ۔ ایک سال بعد مناظرہ کے میں عیسائی ہوا تھا ۔ مارچ ۹۴ء میں مرزا صاحب سے جدا ہوا تھا ۔ مولوی برہان الدین کو ۶۹ء سے جانتا ہوں ۔نوٹ ۔ پیشگوئی حرف Aگواہ نے پڑھی اور اس کا مطلب اس طرح ادا کیا جیسے ڈاکٹر کلارک صاحب نے ۔ (بسوال وکیل ملزم )میں نے کوئی امتحان عربی، فارسی، انگریزی کا پاس نہیں کیا ۔ یرد الی النصارٰیکے معنے یہ ہیں کہ ہم نے الٹا دیا اس کو طرف عیسائیوں کے ۔ مرزا صاحب عبداللہ آتھم کی طرف معنے اس پیشگوئی کے نکالتے ہیں مَیں نہیں نکالتا ۔ میں عیسائی تھا جب پیشگوئی کی میعاد گذری ۔ محمد سعید اور میں قادیاں میں اکٹھے رہتے تھے میرے سے پیچھے محمد سعید قادیاں سے چلا گیا تھا وہ بھی عیسائی ہے ۔ میں مرزا صاحب کی باتوں کو اچھا نہیں سمجھتا ۔ یوسف خاں بقلم خود ۔ سنایا گیا درست ہے تسلیم ہوا ۔ دستخط حاکم
شہادؔ ت دیتی ہیں یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت عیسٰے علیہ السلام تینتیس برس کی عمر میں مصلوب ہوئے اور یہی چاروں انجیلوں کی نصوص صریحہ سے سمجھا جاتا ہے تو پھرایک سو بیس برس کی عمر میں کس حساب سے وہ اٹھائے گئے ۔ حالانکہ حدیث ایک سو بیس برس کی محدثین کے نزدیک صحیح اور رجال اس کے ثقات ہیں اور ایک سو بیس برس کی حد لگا دینا یہ امر بھی دلالت کرتا ہے کہ اس کے بعد ان کی موت ہوئی ۔