نقلؔ بیان یوسف خان بمقدمہ فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر ضلع گورداسپور سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزاغلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری مہر عدالت دستخط حاکم ۲۰ ؍اگست ۹۷ء ؁ یوسف خان گواہ باقرار صالحہ ولد اخوند احمد شاہ خاں ذات افغان عیسا ئی ساکن گجرات تحصیل مردان عمر3 سال۔ بیان کیا کہ میں زمینداری کرتا ہوں ۔ میں پہلے محمدی تھا ۔3 سال کی عمر تک محمدی رہا ۔ میں مرزا صاحب کا مرید ہوا تھا اور محمد سعید کا میں مدد گار تھا جو کتب خانہ کے چارج میں تھا ۔ بعد محمد سعید کے چلے جانے کے میں انچارج ہوا تھا ۔ میں جنڈیالہ میں قبل از مناظرہ ۹۳ء گیا تھا کہ مسلمان لوگ مرزا صاحب کو مباحثہ کے واسطے منتخب کریں ۔ اختتام مباحثہ پر ۵؍ جون ۹۳ء ؁کو مرزا صاحب نے پیشگوئی کی کہ جو حرف Aپر درج ہے اور انہوں نے کہاکہ جو فریق ناحق پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں بسزائے موت ہاویہ میں گرایاجاوے گا۔ نوٹ ۔ گواہ نے پیشگوئی کو پڑھ کر کہا کہ جو فریق غلطی پر ہے شکست کھائے گا یعنی برباد ہوگا ۔ اس وقت میں نے یہ ہی سمجھا تھا کہ عبداللہ آتھم کے واسطے یہ پیشگوئی ہے ۔ مگر بعد میں مرزا صاحب نے زبانی تشریح کی تھی کہ جو جو شخص فریق مخالف کا ہے ہر ایک کے واسطے یہ پیشگوئی ہے ۔ قادیاں آٹھ نو روز بعد پہنچ کر دریافت کیا تھا ۔ جب ڈاکٹر کلارک صاحب بیمار ہوئے تھے تو مرزا صاحب نہیںؔ ہوا نہ اس رفع کا کچھ ثبوت ہے او رنہ اس کی کچھ ضرورت تھی ۔ ہاں ایک سو بیس برس کے بعد رفع روحانی ہوا ہے جس کی قرآن شریف نے شہادت دی ہے ۔ مگر صلیب کے دنوں میں رفع روحانی بھی نہیں ہوا بلکہ وہ اس کے بعد ستاسی برس اور زندہ رہے ہیں ۔ ہمارے علما ء کی یہ غلطی ہے کہ معاََ صلیب کے ساتھ ہی حضرت عیسٰی کا رفع جسمانی مانتے ہیں حالانکہ دوسری طرف یہ اقرار بھی رکھتے ہیں کہ ان کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوئی تھی ۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ جبکہ یہود اور نصاریٰ کی تاریخ متواتر سے جس پر یونانی اور رومی کتب تاریخ بھی