بات کے کہنے پر عبدالحمید ہمارےؔ پاؤں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا ۔ بڑا پشیمان معلوم ہوتا تھا اور کہا کہ میں اب سچ سچ بیان کرتا ہوں جو اصل واقعہ ہے اور تب اس نے وہ بیان ہمارے روبروئے کہا جو ہم نے حرف بحرف اس کی زبان سے لکھا اور عدالت میں پیش ہے ۔ہم نے تب ڈپٹی کمشنر بہادر کو تاردی اور گواہ کو گورداسپور لائے ۔ وہ جب سے بیان لکھا ہے ہمارے احاطہ میں رہتا ہے اور اپنی مرضی سے جہاں جی چاہتا ہے آتا جاتا ہے ۔ آج صبح عبدالحمید نے ہم سے کہا تھا کہ ایک شخص نے (عبدالغنی ۔ یاد دلانے پر گواہ نے نام کی بابت کہا کہ یہی نام ہے )اس کو کہا ہے کہ پہلے بیان کے مطابق پھر بیان لکھوانا ورنہ قید ہو جاؤ گے ۔ ہمارے خدمتگاروں نے اس شخص کو دیکھا تھا جب عبدالحمید ہم کو کہنے آیا تو معلوم ہوا کہ عبدالغنی احاطہ سے چلا گیا تھا ۔ڈاکٹر گرے صاحب نے ہم سے دریافت کیاتھا اور انہوں نے ہم کو چٹھی لکھی ہے جو پیش کی جاتی ہے ۔ حرف V۔ دستخط بخط انگریزی ۔ سنایا گیا درست ہے ، تسلیم ہوا ۔ دستخط حاکم نقل بیان وارث دین گواہ بحلف بمقدمہ فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر گورداسپور سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری ۲۰؍ اگست ۹۷ ؁ ۔ بیان وارث دین گواہ بحلف۔ ولد احسان علی ذات عیسائی ساکن جنڈیالہ عمر3سال بیان کیا کہ جب محمد بخش تھانہ دار عبدالحمید کو مہر عدالت دستخط حاکم تنگؔ کرنا شروع کیا کہ یسوع نعوذ باللہ *** اور خدا سے دور اور مہجور تھا تبھی تو مصلوب ہوگیا۔ اور یسوع گو زندہ بچ گیا تھا مگر اس کا پھر ظالم یہودیوں کے سامنے جانا مصلحت نہ تھی اس لئے عیسائیوں نے یہ بات کہہ کر پیچھا چھڑایا کہ فلاں عورت یا مرد کے روبروئے یسوع *** کے دنوں کے بعد آسمان پر چلا گیا ہے ۔ مگر یہ بات یا تو بالکل جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا ۔ کیونکہ اگر خدا تعالےٰ کا یہ ارادہ ہوتا کہ یسوع کو جسم کے سمیت آسمان پر پہنچادے اور اس طرح پر مشاہدہ کراکر *** کے داغ سے پاک کرے تو ضروری تھاکہ دس۱۰