لینےؔ کے واسطے انار کلی گیا تو بہادر سنگھ سپاہی گاڑی میں ساتھ بیٹھنے لگا تھا تو تھانہ دارنے کہا کہ سائیس مہتر ہے ساتھ نہ بیٹھو ۔ پھر شام کے وقت میں گیا تو تھانہ دار نے کہا کہ اب لڑکا نہیں مل سکتا ۔ جب اقبال عبدالحمید نے بیاس میں لکھا تھا اس وقت ڈاکٹر صاحب میز کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔ جیسے کہ مجسٹریٹ عدالت میں اس وقت بیٹھا ہوا ہے اور عبدالحمید سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ عبدالرحیم۔ پریمداس و دیال چند بیٹھے ہوئے تھے اور بائیں ہاتھ مظہر تھا۔ دائیں طرف اوّل پریمداس دوم دیال چند اور سوم عبدالرحیم تھے ۔ میں نے سنا تھا کہ لڑکے نے وکیل صاحب کو بتلایا ہے کہ وہ امرتسر میں ایک آدمی کو ملا تھا جب وہ پہلے امرتسر گیا تھا ۔ بمقام انار کلی بٹالہ نہال چند کی زبانی مجھے معلوم ہوا تھا کہ ایک اور شخص بھی قتل کرنے کے مشورہ میں امرتسر شامل ہے ۔ تب میں نے عبدالحمید سے دریافت کیا تو اُس نے نام قطب الدین اور پتہ دوکان کا بتلایا۔ شاید ۱۲؍ تاریخ ماہ حال تھی شام کا وقت تھا۔ حلیہ کسی کو اس نے نہیں بتلایا تھا ۔ (بسوال وکیل ملزم )میں پہلے مسلمان تھا ۔ ۱۸۷۴ ء میں عیسائی ہوا تھا ڈاکٹر صاحب سے صرف صاحب سلامت ہے اور کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مشن کی طرف سے مدارس کا ملاحظہ کیا کرتا ہوں۔ لڑکے نے پہلے مسودہ لکھا تھا اور پھر نقل دوبارہ کیا تھا۔ دیال چند نے قلم دوات اور کاغذ لا دیا تھا ۔ عبدالحمید نے جو مسودہ لکھا تھا وہ پڑھا نہیں گیا تھا
بیسؔ یہودیوں کے رئیسوں اور سردار کاہنوں اور مولویوں کے روبروئے یسوع کو آسمان پر معہ جسم اٹھایا جاتا تا ان پر حجت پوری ہوتی نہ یہ کہ کوئی ایسی مجہول الحال عورت عیسائیوں میں سے دیکھتی یا ایسا ہی کوئی اور عیسائی مشاہدہ کرتاجن کے بیان پر لوگ ٹھٹھا کرتے اور ان کو مصداق مثل مشہور ’’پیراں نمے پرند مریداں مے پرانند‘‘کا ٹھہراتے ۔ آخر اس بیہودہ صعود سے فائدہ کیا ہوا جس کا کوئی بھی ثبوت نہیں اور عیسائی اس قول سے خود جھوٹے ٹھہرتے ہیں کہ جبکہ جہنم کی طرف لے جانے کے وقت جسم کو ساتھ نہیں کرتے۔