ہوئی اور زیادہ حال دریافت کرنا ضروری ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کلارک صاحب سے قبل اس کے کہ ؔ وہ جائیں دریافت کیا کہ کس طرح عبد الحمید کو ہم بلائیں۔ انہوں نے نہال چند منشی کا پتہ دیاکہ اُس کو لکھ کر بُلالیں۔ ۱۴؍تاریخ کو محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ مسانیاں سے واپس بٹالہ آیا اور ہم نے اس کو نہال چند کے پاس معہ ایک چٹھی کے بھیجا ۔ جب وہ عبد الحمید کو لایا ہمارے پاس بہت کام تھا ۔ ہم نے محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر کو حکم دیا کہ اس لڑکے کو باہر درخت کے نیچے اپنے زیرنگرانی رکھو۔ انسپکٹر صاحب جلال الدین کو بھی حکم دیا تھا کہ حفاظت رکھو ۔ ہم کو علم ہے کہ یہ دونوں افسر قادیاں والے مرزا صاحب کے ہر گز مرید نہیں ہیں ۔ جب کام سے ہم فارغ ہوئے ۔ ہم نے عبدالحمید کو بلوایا۔ درخت کے نیچے جہاں وہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم دیکھ سکتے تھے۔ قریب دو گھنٹہ کے بعد ہم نے صرف عبدالحمید کو بلوایا تھا ۔ دونوں افسر اس کو لائے تھے ۔ قبل اس کے کہ عبدالحمید کو لاویں انسپکٹر صاحب نے ہم سے کہا کہ اگر فرصت نہیں ہے تو عبدالحمید کو واپس انارکلی بھیج دیا جاوے کیونکہ وہ جانا چاہتا ہے اور مقدمہ کی بابت کچھ اصلیت ظاہر نہیں کرتا۔ ہم نے تب کہا کہ اس کو ہمارے روبروئے حاضر کرو۔ جب وہ آیا تو وہی کہانی اس نے بیان کی جو پہلے مرزا صاحب کے اس کو امرتسر برائے قتل ڈاکٹر کلارک صاحب بھیجنے کی نسبت بیان کی تھی ۔ ہم نے دو صفحے لکھے اور اس کو کہا کہ ہم اصلیت صرف دریافت کرنا چاہتے ہیں ناحق وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔ اس اسؔ تمام تحقیق سے ثابت ہوا کہ عیسائیوں نے یسوع کا معہ جسم اٹھایا جانا قرار دے کر اپنے عقیدہ کو غلطیوں اور تناقضوں سے پُر کر دیا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ اس کی فقط روح خدا تعالےٰ کی طرف اٹھائی گئی اور وہ بھی صلیب سے ایک مدت دراز کے بعد ۔ اور اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یسوع کا خدا کی طر ف اٹھائے جانا جو اس کے خدا ہونے کی دلیل ٹھہرائی گئی ہے یہ سراسر بیہودگی اور حماقت ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب یہودی لوگ اپنے زعم میں حضرت مسیح کو مصلوب کر چکے تو انہوں نے ہر روز عیسائیوں کو