ڈسٹرؔ کٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس بہادر کی درخواست اور اُس کی اپنی درخواست پر رکھا تھا۔ ہم نے مسٹر گرے اور اُس کے پاس جانے کی نسبت بعد میں سُنا۔ (بسوال وکیل ملزم۔) ہم ڈاکٹر مشنری ہیں۔ ہم نے اپنے وکیل کا سفر خرچہ اور محنتانہ نہیں دیا۔ ہم کو یاد نہیں ہے کہ آیا ہم نے رام بھج دت کو وکیل مقرر کیا یا وہ از خود آیا۔ ہم لوگ ایک شخص جو سب کا دشمن ہے کے بارے میں مل کر کارروائی کرتے ہیں۔ (بسوال عدالت) عبد الرحیم ۳۲ سال ملازمت مشن میں رہا۔ جب لڑکا آیا۔ عبد الرحیم ایک بڑی خوف زدہ حالت میں تھااور اقبال کیا کہ وہ اُس کو مار ڈالنے آیا ہے۔ لڑکے کی روانگی کے دن ہم عبد الرحیم کو اُس کے ظاہر ارادوں کے بارے میں ناراض ہوئے۔ ہم کو سوجھ گئی تھی کہ اشارہ نادرست نہیں تھا۔ اور لڑکے کے چہرے پر ظاہرً ا ایک رنگ آتا تھا اور دُوسرا جاتا تھا20-8-97کوئی سوال نہیں ہؤا۔ دستخط حاکم مہر عدالت نقل بیان مسٹر لیمارچنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور بعدالت فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری دستخط حاکم ۲۰ ؍اگست ۹۷ ؁ بیان مسٹر لیمارچنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس باقرار صالح۔ ۱۳؍تاریخ کو صاحب مجسٹریٹ ضلع نے ہم سے فرمایا تھا کہ عبد الحمید کے بیان سے پوری تسلّی ان کی نہیں خداؔ کی طرف بھی محض ان کی روح ہی گئی تھی اور اس کے ساتھ وہ جسم نہیں تھا جو نعوذ باللہ *** صلیب سے ناپاک ہو چکا تھا۔ کیونکہ جس حالت میں *** کے دنوں میں جسم تین دن تک قبر میں رہا اور جہنم میں *** کا نتیجہ بھگتنے کے لئے محض روح گئی تو پھر خدا جو بموجب قول ان کے روح ہے کیونکر اس کی طرف جسم اٹھایا گیا ۔ حالانکہ جسم کا جہنم میں جانا ضروری تھا کیونکہ گو *** یسوع کے دل پر پڑی مگر جسم بھی دل کے ساتھ شریک تھا بالخصوص اس وجہ سے کہ عیسائیوں کا جہنم محض ایک جسمانی آتش خانہ ہے کوئی روحانی عذاب اس میں نہیں۔ غرض