دفعہ عدالت میں پیش ہونے ؔ سے پہلے پریمداس نے پتہ قطب دین کا لکھا تھا۔ (بسوال وکیل ملزم) جب دوبارہ شہادت بٹالہ میں ہوئی اُسکے بعد ڈاکٹر صاحب کے پاس رہا تھا۔ دو سپاہی اور دو چوہڑے اور تین عیسائی میری حفاظت پر تھے یعنی اُنکے پہرہ میں مظہر تھا۔ مرزا صاحب کا کوئی آدمی مجھے نہیں ملا اور نہ اُس بیان کو مَیں نے کسی کی ترغیب اور تحریص سے لکھایا جو پولیس والے صاحب کے رُوبروئے لکھایا گیا ہے۔ صرف صاحب نے کہا تھا کہ ہم سچ دریافت کرنا چاہتے ہیں اور مَیں نے خدا کے خوف سے سچ لکھا دیا۔ تھانہ داروں نے مجھے کوئی خوف یاترغیب نہیں دی تھی۔ مرزا صاحب نے ہرگز مجھے نہیں کہا تھا کہ تم جاکر ڈاکٹر صاحب کو مارڈالو۔ مسجد کے ساتھ والے کمرے میں کوئی شخص نہیں جاسکتا۔ وہ زنان خانہ صاحب مکان کا ہے۔ مجھے اُس کے دروازے کا بھی حال معلوم نہیں ہے۔ شیخ وارث دین، بھگت پریمداس اور ایک اور عیسائی بوڑھا اور عبدالرحیم مجھے سکھلاتے رہے تھے۔ اُس رات کو جس کے دوسرے دن میری دوبارہ شہادت ہوئی ہے تالا باہر سے مکان کو لگا کر مجھے اندر مکان کے بند رکھتے تھے۔ انارکلی میں مجھے سکھلاتے رہے تھے کہ تم بیان کرنا کہ مرزا صاحب نے مجھے مارنے کے واسطے بھیجا تھا۔ وکیل نے جب شام کے وقت مجھ سے پُوچھا تھا اُسوقت ڈاکٹر صاحب ذرا فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وکیل نے کہا تھا کہ جو سوال ملزم کی طرف سے وکیل کرے اُس کا جواب جیسا کہ لغت کی رو سے مفہوم *** کا ہے وہ تین دن تک کیوں محدود ہوگئی ۔ کیا توریت کاؔ مطلب صرف تین دن ہیں یا ابدی *** ہے ؟ اس خود تراشیدہ عقیدہ سے تو توریت باطل ہوتی ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کا نوشتہ باطل ہو ۔ علاوہ اس کے توریت کا مطلب تو یہ تھا کہ صلیب پر مارے جانے سے خدا کی طرف روح اٹھائی نہیں جاتی بلکہ جہنم کی طرف جاتی ہے ۔ چنانچہ یہ مؤخر الذکر جزو عیسائیوں کے عقیدہ میں داخل ہے اسی وجہ سے وہ لوگ نعوذ باللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ تین دن تک جو *** کے دن تھے وہ نعوذ باللہ جہنم میں رہے اور